خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے بھارتی بزرگ کو فرضی شادی کا ڈرامہ کرنا پڑا

344

ایک ہندوستانی شخص شادی کے سوٹ میں ملبوس ایک سرکاری دفتر میں ایک قدیم گاڑی اور موسیقاروں کے ایک گروپ کے ساتھ پیتل کے آلات پر پرفارم کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر دفتر کا عملہ حیران تھا۔ اس کے ایسا کرنے کا مقصد ہندوستانی حکام کو یہ ثابت کرنا تھا وہ زندہ ہے، حالانکہ حکومت نے اسے مردہ قرار دے کر اس کی پنشن بند کردی ہے۔ اسے خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے 102 سال کی عمر میں فرضی شادی کا ناٹک بھی کرنا پڑا۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک سو سال سے زاید عمر کے ڈولی چند نے سرکاری دفترمیں داخل ہونے کے بعد چیخ ماری کہ”میں زندہ ہوں!”۔

انہوں نے کہا کہ مُجھے مارچ سے پنشن نہیں ملی ہے کیونکہ حکومتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ میں مر گیا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا اس کے بعد سے میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں کہ میں ابھی تک زندہ ہوں۔

سماجی کارکن نوین جایہند جو جعلی شادی کے جلوس میں شامل ہونے والے درجنوں لوگوں میں شامل تھے، نے کہا کہ انہیں چند کی کہانی کے بارے میں معلوم ہوا اور اس نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "ہم نے مختلف سرکاری دفاتر کو بلایا اور ایک پریس کانفرنس بھی کی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پھر ہم نے چند کے کیس کے بارے میں توجہ مبذول کرنے کے لیے ایک جعلی شادی کے جلوس کے انعقاد کا سوچا۔”

انہوں نے اشارہ کیا کہ اس واقعے کے بعد سےانہیں اسی طرح کے مسئلے کا سامنا کرنے والے متعدد لوگوں کی کالیں موصول ہوئی ہیں۔دوسری طرف چند کی فرضی شادی کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔