تھانے (آفتاب شیخ)ممبرا سے متصل شیل پھاٹا پر دینی ادارہ دارالعلوم مخدوم سمنانی ہر سال کی طرح امسال بھی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں خواجہ صاحب کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین و ہدایت مولانا جمال احمدنے دی ۔
پروگرام کا آغاز قاری خوش الحان حضرت حافظ وقاری ابوالکلام ازہری شیخ التجوید ادارہ ہذا نے تلاوت کلام اللّٰہ سے کی ۔
حضرت مولانا قاری ساجد رضا صاحب نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیتے ہوئے منقبت عطاء رسول سے محفل میں ایک سماع باندھ دیا حضرت مولانا شاداب رضا منظری ۔ حضرت مولانا بلال احمد صدیقی اشرفی ۔ مداح خیرالانام زیبر فیضی صاحبان نے نعت ومنقبت سے سامعین کو فیضیاب کیا ۔خلیفہ حضور شیخ الاسلام وخلیفہ اجمل العلماء حضرت علامہ جمال احمد صدیقی اشرفی القادری بانی دارالعلوم مخدوم سمنانی نے اپنی گنگرج آواز میں سوانحِ حضور خواجہ غریب نواز پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آج زمانے کو سیرتِ غریب نواز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ میرے خواجہ کی یہ شان ہےکہ جہاں اناساگر کو اپنے کاسہ میں بلایا تو پیغام دیا کہ مسلمان انسان تو انسان کسی کتے کو پیاسا نہیں دیکھ سکتا اور پھر پانی اناساگر کو واپس کردیا ۔ میرے خواجہ کی یہ شان ہےکہ آپ روزے سے تھے ایک غریب آپ کی بارگاہ میں کھانا لےکر آیا آپ نے تناول فرمالیا لوگوں نے پوچھا حضور آپ تو روزے سے تھے آپ نے فرمایا کہ روزے کی قضا ہے مگر کسی کا دل ٹوٹ جائے تو اس کی قضا نہیں ۔ معین الدین دل توڑنے کےلئے نہیں ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کےلئے آیا ہے ۔ مجمع میں نعرے تکبیر ورسالت کی گونج ہورہی تھی ۔جبکہ اس موقع پر حضرت علامہ برکت اللّٰہ فیضی بھوئر کمپاؤنڈ ، مولانا شوکت علی صاحب ایکتا نگر ، مولانا طاہر حسین صاحب نورالہی مسجد ، مولانا بلال احمد ، مولانا ہدایت اللّٰہ خان صاحب ، جناب علی حسن چودھری ،محبوب علی خان ، محبوب احمد ، جمال احمد پپو ، کمال احمد ، رضوان احمد ، زاہد علی ، اور دیگر علاقائی حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔