• 425
    Shares

پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں۔‘ملا عبدالسلام ضعیف 20 سال قبل افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے لیے سفیر تھے۔

 

پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے امارتِ اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا تھا۔بعد میں امریکی حملے میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکہ نے گرفتار کر لیا تھا مگر بعد میں وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے میں بھی شامل رہے۔

 

ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا: ’خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جا سکتی ہیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ کچھ افغان کابل ایئرپورٹ پر ہونے والی افراتفری کو بغیر دستاویزات ملک سے باہر جانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔اُنھوں نے طالبان کے بارے میں کوریج کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

 

’یہ طالبان کے خلاف بڑی سازش ہے، یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں اور وہ عوام اور تعلیم کے خلاف ہیں۔‘’جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ طالبان کسی سے کوئی بدلہ نہیں لے رہے، یہاں تک کہ کابل ایئرپورٹ جانے والوں کو بھی طالبان نہیں روک رہے، اگر وہ قانونی انداز میں جائیں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔