مذکورہ ’فرنٹ لائن‘ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ محض 24گھنٹوں قبل ایک ائی ای ڈی حملہ ہوسکتا ہے کے متعلق حملہ کا انتباہ پر مشتمل خفیہ جانکاری ملی تھی

ُفرنٹ لائن میگزین کی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 14فبروری 2019کو پیش ائے پلواماں حملہ جس میں سی آر پی ایف جوانوں کے قافلے کے 40فوجی جوان شہید ہوگئے تھے کے متعلق ایک ہفتہ سے انتظامیہ کو خفیہ جانکاری مل رہی تھی۔

رپورٹس کے بموجب2جنوری2019سے13فبروری 2019کے درمیان انتظامیہ سے کئی خفیہ جانکاریاں شیئر کی گئی جس میں جیش محمد (جے ای ایم) کے ”قصص مشن“ کے حصہ کے طور پر فدائن حملے کا انتباہ دیاگیاتھا۔

جنوری 24اور جنوری 25سال2019کو ملی دوہری خفیہ جانکاری میں مدثر خان کی قیادت میں جے ای ایم کے امکانی دہشت گرد حملے کا اشارہ دیاگیاتھا جو حکومت کے ”اپریشن ال اؤٹ“ کے جواب میں ہوں گا جس کی شروعات وادی میں 2017میں کی گئی تھی۔

بعدازاں مدثرر کو مخالف دہشت گرد اپریشن میں سکیورٹی دستوں نے 11مارچ2019کو مار گرایاتھا۔مذکورہ ’فرنٹ لائن‘ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ محض 24گھنٹوں قبل ایک ائی ای ڈی حملہ ہوسکتا ہے کے متعلق حملہ کا انتباہ پر مشتمل خفیہ جانکاری ملی تھی۔

فرنٹ لائن کا دعوی ہے کہ 13فبروری کو ملی خفیہ جانکاری کے علاوہ چھ مزید جانکاریاں ملی تھیں جس پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ حملے سے بچاجاسکتا تھا۔تفصیلی رپورٹ میں تین اہم نکات کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔

پہلا 24جنوری کو خفیہ جانکاری ملی کہ مدثر خان وادی میں ایک قافلے پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔ فرنٹ لائن کے بموجب اس خفیہ جانکاری میں تھا کہ”رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ(2/3)ایف ٹی ایس برائے جیش محمد تنظیم نے جی ای ایم کے دہشت گرد مدثر خان عرف محمد بھائی گروپ اونتی گروپ کو کچھ خصوصی کام دیاگیاہے۔

آنے والے دنو ں میں بڑا فدائن حملہ۔ اس گروپ نے راجپورا پلواماں میں شاہد بابا گروپ سے بھی رابطہ کیاہے“۔ دوسرا جنوری25کو مودی کے مقام کے متعلق جانکاری ملی تھی۔

فرنٹ لائن رپورٹ میں ذکر کیاگیاہے کہ ”اس میں نمایاں الفاظ میں کہاگیاتھا کہ مدثر خان چار غیر ملکی لوگوں کے ساتھ لام ٹرال او رمیدورا دیہاتوں میں دیکھا گیاہے“۔

تیسرا کم سے ہم یہاں پر تین ہفتوں کا وقت تھاکاروائی کے لئے اور مدثر کو ختم کرتے ہوئے اس کے منصوبے کو ناکام بنادیاجاسکتا تھا جس منصوبے نے سی آر پی ایف کے 40جوانوں کی جان لے لی تھی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں