خرطوم : سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں جمعرات کی صبح جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے ان پر آنسو گیس کی شلباری کی ہے۔اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دارالحکومت خرطوم کے شمالی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔شہر کے شمالی علاقوں میں مظاہرین نے گذشتہ رات سے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔گذشتہ ماہ سے سوڈان پر فوجی قبضے کے بعد بغاوت مخالف مظاہروں کے خلاف چہارشنبہ کے روز سب سے مہلک اور بہت بڑا کریک ڈاؤن دیکھا گیا ہے۔وزارت صحت نے بتایا ہے کہ چہارشنبہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 15 مظاہرین ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے زیادہ تر شمالی خرطوم میں ہونے والے مظاہروں میں شامل تھے۔سوڈان کے کئی شہروں میں سکیورٹی فورسز نے فوجی بغاوت کے خلاف نکالی جانے والی ریلیوں کے مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔سنٹرل کمیٹی آف سوڈان ڈاکٹرز کے مطابق ان مظاہروں کے دوران کم از کم 300 مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سوڈان میں گذشتہ ماہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی اور سوڈان کی سویلین قیادت کو حراست میں لیا تھا۔وزیراعظم عبد اللہ حمدوک کو کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھنے کے بعد نظر بند کر دیا گیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں