✍️ محمد عامر عثمانی ملی ۔مالیگاوں

قارئین کرام ! موجودہ حالات میں جبکہ وبائی مرض کرونا کی دوسری لہر کو لے کر دوبارہ لاک ڈاؤن کی بات کہی جارہی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے فیصلے دن و رات تبدیل ہورہے ہیں، ایسے حالات میں مالیگاؤں کی مؤقر تنظیموں اور اکابر علماء کرام نے یہ تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ امسال رمضان المبارک کے مقدس ایام میں مساجد کھلی رہیں گی، اور اگر خدانخواستہ کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اسے بھی اس کے راستوں سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، لہٰذا اس کی بھی فکر نہ کریں۔ یہ فیصلہ کیا آیا جیسے ہندوستانی مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی، جوش وخروش کے ساتھ اس فیصلے کی ستائش کی جارہی ہے۔ اور کرنا بھی چاہیے۔ ہم خود بھی اس فیصلے سے متفق اور خوش ہیں۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی اس فیصلے سے متفق ہو۔ اور یہی ہوا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اہم رکن حضرت مولانا محمود دریابادی دامت برکاتہم نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی بات سنجیدگی سے رکھ دی اور اس فیصلے سے ہونے والے اندیشوں کو بھی تحریر کردیا، جسے اندیشہ کے بجائے تجربہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، کیونکہ ایسا ہوا ہے کہ باقاعدہ مسجد کے باہر کھڑے رہ کر پولیس نے نمازیوں پر ڈنڈے برسائے ہیں، اور اخیر میں آپ نے یہ بات بھی کہہ دی کہ یہ میری ذاتی رائے ہے اس سے اختلاف کی گنجائش ہے۔

قارئین کرام ! اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حضرت مولانا کے موقف کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر اس کا سنجیدگی سے جواب دیا جاتا، لیکن ادھر دو چار سالوں سے عوام بلکہ بعض خواص کا بھی یہ مزاج بن رہا ہے بلکہ بنایا جارہا ہے کہ جہاں کوئی ہمارے موقف سے اختلاف کرے ہم اس کا بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیں۔ اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئیں بلکہ ان کی شان میں گستاخی سے بھی دریغ نہ کریں، یعنی گویا کہ حق گوئی کے نام پر امت کو باقاعدہ بدتمیزی سکھانے کا کچھ لوگوں نے بیڑا اٹھا رکھا۔ جس سے نوجوانوں میں غور وفکر، اطاعت و فرمانبرداری اور عمل کا جذبہ پیدا ہونے کے بجائے من مانی، خود سری، بدتمیزی اور اکابر علماء کرام کے تئیں بے اعتمادی کا عنصر دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ بلاشبہ یہ رجحان بڑا خطرناک ہے جس کا سدباب ہونا ضروری ہے۔

حضرت مولانا محمود دریاآبادی ہمارے ساتھ ایک واٹس گروپ میں ہیں، جن کی تحریریں عموماً مفید ہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ جب ان کی یہ تحریر آئی تو ہم نے بھی اس پر سرسری تبصرہ کردیا اور چونکہ ہم مالیگاؤں کے حالات سے واقف ہیں، اس لیے بھی صحیح صورت حال سے ہم نے انہیں واقف کرا دیا اور اچھے انداز میں اپنا موقف بھی رکھ دیا جس سے حضرت دریابادی کے موقف کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔

حضرت اطلاعاً عرض ہے کہ گذشتہ سال مالیگاؤں میں لاک ڈاؤن گائیڈ لائن کا مکمل طور پر پالن کیا گیا تھا، بالخصوص شب برأت سے کچھ دن پہلے سے عید تک تمام مساجد میں صرف پانچ سات افراد کے ساتھ نماز پڑھی جارہی تھی، چھ سو مساجد میں صرف ہماری مسجد کے علاوہ دو تین اور مساجد میں بڑی تعداد میں نمازیوں کے ساتھ نمازیں ادا کی گئی، وہ بھی اس لیے کہ ہماری مسجد کا ایک دروازہ باریک گلی میں تھا، نمازی آسانی سے آجاتے تھے، اور پولس سڑکوں پر رہتی تھی۔ اور الحمدللہ ہمارے علاقے میں کوئی خاص کیسیس بھی نہیں ہوئے۔ اور ذمہ داران کی اجازت سے ہم نے بھی طے کرلیا تھا کہ مسجد جاری رکھیں گے، کیونکہ جن مصلیان سے ہم ہدیہ لیتے رہتے ہیں ان کے لیے ایک ایف آئی آر سہی۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ اگر کارروائی ہوئی تو امام پر ہی ہوگی۔ شہر میں ہماری مسجد کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا لیکن الحمدللہ اس کے باوجود کوئی پروبلم نہیں آئی۔

فی الحال لاک ڈاؤن کا اثر صرف دوکانوں کی حد تک ہے۔ مساجد معمول کے مطابق جاری ہیں، اور ان شاءاللہ سختی کے باوجود بھی بند نہیں ہوگی، کیونکہ پچھلی مرتبہ خود شہر میں متعدد مریض پائے گئے تھے، بہت سے دواخانے بند تھے، متعدد اکابر علماء اور عمائدین شہر کی اموات سے شہریان نڈھال تھے، لوگوں میں خوف وہراس تھا۔ جس کی وجہ سے بھی لوگوں نے مسجد جاری کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی، اس مرتبہ مریض شہر میں نہ کے برابر ہیں، دوسرے یہ کہ دواخانے کھلے ہوئے ہیں، بی یو ایم ایس ڈاکٹر گلی گلی میں موجود ہیں جو اس بیماری کا الحمدللہ بآسانی اور تیز اثر علاج کررہے ہیں، بلکہ دور دور سے لوگ بالخصوص برادران وطن ان سے استفادہ کررہے ہیں اور شفایاب ہوکر دعائیں دیتے ہوئے جارہے ہیں۔ اس لیے امسال سختی ہو یا کچھ بھی ان شاء اللہ مساجد بند نہیں ہوں گی۔

فی الحال مالیگاؤں کی مؤقر تنظیموں اور اکابر علماء کرام فیصلہ سے اتنا فائدہ تو بہرحال ہوگا کہ دیگر علاقوں کے سیاسی لیڈران اور علماء کرام انتظامیہ سے قانون کے دائرے میں رہ کر دو ٹوک بات کرسکتے ہیں یا پھر مسلم اکثریتی علاقے والے کم از کم خاموشی سے مسجدیں جاری رکھنے کی ہمت کریں گے۔ (تبصرہ مکمل ہوا)

اخیر میں ہم دوبارہ اسی موضوع پر آتے ہیں کہ حضرت دریابادی کا موقف اگرچہ آپ کی نظر میں غلط ہے لیکن اس کے باوجود ان کے مقام ومرتبہ اور خدمات کا خیال بہرحال ضروری ہے۔ اپنے سے عمر میں دو گنا زائد آدمی سے جبکہ وہ عالم دین بھی ہیں، ملک کی متعدد مؤقر، معتبر اور نمائندہ تنظیموں کے صدر اور رکن کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، بالخصوص مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی انتہائی باوقار تنظیم کے رکن اور ملک کے اکابر علماء کے معتمد ہیں3 اور ایک اچھے مسلمان کی علامت ہے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو شرعی حدود میں رہتے ہوع اختلاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر حال میں ادب تمیز جو شریعت اور سنت کا اہم حصہ ہے اس کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور امت کو مساجد میں سجدہ کرنے کی سعادت سے تاقیامت محروم نہ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین