ناندیڑ: 13مئی (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ کی معروف شخصیت ‘ماہر قانون اور ادیب محمدبہاءالدین ایڈوکیٹ کا 76سال کی عمر میں آج بروز 13 مئی 22ءکو صبح ساڑھے گیارہ بجے شہرکے خانگی دواخانہ میں انتقال ہوگیا ۔ وہ چند ماہ سے علیل تھے اور تقریبا دیڑھ ماہ سے دواخانہ میںزیرعلاج تھے۔انھوں نے مدرسہ مدینتہ العلوم ایجوکیشن سوسائٹی ناندیڑ کے عہدہ سیکریٹری پرفائز رہے کہ نمایاں تعلیمی خدمات انجام دیں۔مدینتہ العلوم ہائی اسکول میں متعدد تعلیمی اورادبی کانفرنسیں منعقد کروائی تھیں ۔ وہ کم سُخن ‘ ملنسار ‘خوش مزاج اور خلیق انسان تھے ۔

حال ہی میں اُن کی دو کتابیں ”فکر امروز“ ( منتخب مضامین کا مجموعہ)اورگویا یہ بھی میرے دل میں ہے“( منتخب مراٹھی مضامین اورکالمز کے تراجم کامجموعہ ) شائع ہوئی ہیں ۔اس سے قبل ایک نثر کی کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔اردو زبان وادب کی خدمات کے لئے بہاءالدین ایڈوکیٹ کو مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادیمی ممبئی نے ایوارڈ سے نوازاتھا ۔ اورگزشتہ ماہ اپریل میںا سی اردوساہتیہ اکادیمی نے مرحوم کو ان کی مجموعی اردو اورادبی خدمات کے لئے ایوارڈ کے لئے منتخب کیاتھا ۔

مرحوم بہاءالدین ایڈوکیٹ شہر ناندیڑ میںا ردوتعلیمی ‘علمی اور ادبی کانفرنسوں ‘سمیناروں اوردیگرپروگراموں کے انعقاد میں پیش پیش رہتے تھے۔ وہ دو مرتبہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردوساہتیہ اکادمی کے رکن بھی رہے چکے تھے ۔ اس طرح انھوں نے اردو زبان و ادب کی ترقی ‘ترویج اور اشاعت کےلئے مسلسل کارہائے نمایاں انجام دئےے ہیں۔مرحوم کی نماز جنازہ مسجد اسریٰ نگر میں بعد نماز عشاءادا کی گئی اوروہیں قبرستان میں سینکڑوں رشتہ داروں ‘احباب اوور مداحین نے انھیں بہ دیدئہ نم سپرد ِ لحد کیا۔ ان کے پسماندگان میںچاربیٹے ڈاکٹر محمدبدیع الدین ‘ایڈوکیٹ محی الدین موئید ‘ ایڈوکیٹ معین الدین راشد‘ فارمیسٹ محمد شجیع الدین نوید اورایک بیٹی ہیں۔مرحوم بہا ءالدین کا ادارہ ”ورق تازہ“ کے ہمدردگان اور قلمکاروں میںشمار ہوتاتھا ۔

ان کے کئی مضامین روزنامہ ” ورق تازہ“ کے صفحات کی زینت بن چکے ہیں ۔ ادارہ ورق تازہ کے تمام اسٹاف ممبران اور مدیراعلیٰ محمدتقی کے علاوہ مرحوم کے قریبی دوست خورشیداحمد‘قاضی محمداطہرالدین ‘ محمدشفیع احمدقریشی ‘ محمود علی سحر نے اپنے تعزیتی بیان میں محمدبہاءالدین ایڈوکیٹ کے سانحہ ارتحال پر افسوس وغم کااظہار کرتے ہوئے خداے برتر وبزرگ سے دعا کی ہے وہ مرحوم کی چھوٹی بڑی لغزیشوں کودرگزرکرے ‘گناہوں کومعاف کرے ‘ اُن کی مغفرت کرے اور انھیں جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین مقام پرجگہ دے ۔