ناندیڑ:21اپریل (ورق تازہ نیوز)نہ صرف مراٹھواڑہ بلکہ علاقہ دکن کے مایہ ناز معروف جدید شاعر ‘ ادیب اونقاد ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی آج بروز بدھ 21اپریل 8رمضان المبارک کی دوپہر ایک بجے دل کاشدیددورہ پڑنے سے رحلت کرگئے ۔وہ 5فروری 1948ءکوتاریخی شہر اورنگ آباد میں مولانا محمدعمرصدیقی اطہر جالنوی کے گھر پیدا ہوئے تھے ۔ اُن کا اس جہان فانی سے کوچ کرجانا مراٹھواڑہ میںاردو شعر وادب کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔وہ شوگراورربلڈپریشر کے دائمی مریض تھے ۔ لیکن صحت مند تھے ۔ان کی تصنیفات میں اردو شعری مجموعہ”وارفتہ “ اورکڑی دھوپ کاسفر(دیوناگری)‘ مضامین کا مجموعہ ”گُلِ باغ وفا“ اور” چاند چہرے“ ہیں۔ انھوں نے معروف ترقی پسندشاعر مرحوم مجروں سلطانپوری کی شخصیت اورکارنامے پر مقالہ لکھ کرڈاکٹریٹ(Ph.D) کی ڈگری حاصل کی تھی۔آج کل وہ اپنی منظوم سوانح پرکام کررہے تھے لیکن اس تصنیف کے مکمل ہونے سے قبل ہی ان کی زندگی تما م ہوگئی ۔وہ آل انڈیااورریاستی سطحوں کے مشاعروں میںاپنے خوبصورت ترنم میں کلام سناکرمشاعرہ لوٹ لیاکرتے تھے۔ان کے ذیل کے اشعار اردو شعری ادب میں ہردور میں پڑھے جاتے رہیںگے۔

دریچہ اس کے مکاں کاکبھی کھُلا ہی نہیں
وہ لطف تازہ ہواﺅں کاجانتا ہی نہیں

تُوسمندر ہے تری ذات کا حصہ ہو جاﺅں
ایک مدت سے تمنا ہے کہ دریا ہوجاﺅں

تمام عمر مناتے رہے نہ جانے کیوں
حیات آج بھی ہم سے خفا خفا سی ہے
ڈاکٹر فہیم صدیقی مہاراشٹراسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی کے تین بار رکن رہے چکے تھے ۔اکادمی نے انھیں اردو شعروادب کی خدمات کےلئے کارنامہ حیات ایوارڈ سے نوازاتھا ۔اس کے علاوہ وہ مذہبی ‘سماجی اور ادبی تنظیموں کی جانب سے اعزازات اورانعامات سے بھی نوازے گئے تھے ۔مرحوم سادہ لوح ‘ ملنسار‘ خوش مزاج‘یاروکے یار خصوصیات کے حامل شخص تھے۔انھوں نے پہلے ضلع پریشد ہائی اسکول ناندیڑاورپھر پرتیبھا نکتین کالج ناندیڑ کے شعبہ اردو میں تدریسی خدمات انجام دی تھیں اورا سی کالج کے صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے وظیفہ حسن خدمت پرسبکدوش ہوئے تھے ۔ان کی نماز جنازہ آج شب دس بجے نظام کالونی میںادا کی گئی اوراسی کالونی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔ان کے پسماندگان میں پانچ بیٹے ڈاکٹرمقیم احمدصدیقی‘ڈاکٹرزعیم احمد صدیقی‘ ایڈوکیٹ عظیم احمدصدیقی‘کلیم احمدصدیقی ‘اقلیم احمد صدیقی اورتین بیٹیاں اورتین بھائی ہیں۔سال گزشتہ اُن کے جوان بڑے فرزند ڈاکٹرندیم احمدصدیقی کا انتقال ہونے سے وہ مسلسل صدمے میں تھے ۔

فہیم صدیقی کی رحلت پرحیدر آبادسے پروفیسر تراب علی یداالہیٰ ‘ پروفیسر ڈاکٹرمجید بیدار‘بلیغ الدین ثاقب ‘ناندیڑ سے محمودعلی سحر ‘محمدتقی سینئر صحافی‘خورشیداحمد ‘قاضی محمداطہر ‘عبدالقادر‘عطاءحیدر آبادی‘عبدالقدیر(موظف مدرس) ‘جلگاوں س پرنسپل ڈاکٹر سیدشجاعت علی‘ اورنگ آباد سے خان مقیم خان(سابق اناونسر آل انڈیا ریڈیو) ‘پونے سے خان شیم خان ‘پربھنی سے اقبال مجیدا للہ ‘حمید ملک (سینئرصحافی)اور کئی دوست واحباب نے اپنے رنج وافسوس کااظہار کیا ہے اوران کی مغفرت کی دعا کی ہے۔ادارہ ’ورق تازہ“ بھی مرحوم کے افراد خاندان کے غم میں برابر شریک ہے اور پروردگار عالم سے دعاگو ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔پسماندگان کوصبرجمیل عطاءکرے ۔