حیدر آباد انکاؤنٹر کو سپریم کورٹ نے فرضی قرار دیا، 10 پولیس اہلکاروں پر چلے گا قتل کا مقدمہ

حیدر آباد:20۔ مئی (ایجنسیز)حیدر آباد کی ویٹنری ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل کے چار ملزمین کی پولیس انکاؤنٹر میں موت پر سپریم کورٹ کی جانچ کمیشن کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ کمیشن نے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیا ہے۔ سرپورکر جانچ کمیشن نے اس معاملے میں اپنی جانچ رپورٹ میں انکاؤنٹر میں شامل 10 پولیس اہلکاروں پر قتل کا کیس چلانے کی سفارش کی ہے۔ اس انکاؤنٹر کے لیے حیدر آباد پولیس کی ملک بھر میں واہ واہی ہوئی تھی۔

سرپورکر جانچ کمیشن نے رپورٹ میں صاف کہا ہے کہ مبینہ چاروں ملزمین کا فرضی انکاؤنٹر کیا گیا تھا۔ جسٹس وی ایس سرپورکر جانچ کمیشن نے کہا ہے کہ اس فرضی تصادم کے قصوروار پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے جانچ رپورٹ تلنگانہ ہائی کورٹ کو بھیجنے کی ہدایت دیتے ہوئے قصورواروں پر کارروائی کرنے کو کہا ہے۔حیدر آباد میں 27 نومبر 2019 کو 27 سال کی ایک ویٹنری ڈاکٹر کا اغوا کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کی لاش شاد نگر علاقے میں ایک پل کے نیچے جلی ہوئی حالت میں ملی تھی۔ اس کے بعد حیدر آباد پولیس نے چار ملزمین محمد عارف، چنتاکنٹا چیناکیشولو، جولو شیوا اور جولو نوین کو اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد این ایچ-44 پر پولیس انکاؤنٹر میں ان چاروں ملزمین کی موت کی خبر نے سب کو حیران رک دیا۔ اسی شاہراہ کے پل کے نیچے 27 سالہ ویٹنری ڈاکٹر کی جلی ہوئی لاش ملی تھی۔ اس کے بعد اس معاملے پر پورے ملک میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ معاملے میں سپریم کورٹ نے انکاؤنٹر کی جانچ کرنے کے لیے جسٹس وی ایس سرپورکر کی صدارت میں جانچ کمیشن کی تشکیل کی تھی۔

جانچ کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور ہما کوہلی کی بنچ نے کہا کہ یہ انکاؤنٹر سے متعلق ہے، اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ کمیشن نے کسی کو قصوروار مانا ہے، ہم رپورٹ تلنگانہ ہائی کورٹ کو بھیج رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پر کیا کارروائی ہونی چاہیے۔ کمیشن نے کچھ سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ دونوں فریقین کو رپورٹ کی کاپی مہیا کرائے۔