انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے شخص کو ایک مسلمان خاتون سے شادی کرنے پر بیہمانہ تشدد کرکے قتل کر دیا گیا۔انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حیدر آباد میں ایک شخص زمین پر لیٹا ہوا ہے اور اس کے منہ سے خون بہہ رہا ہے جبکہ ایک خاتون مردانہ وار ان کو حملہ آوروں سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

حملہ آور، جو کے خاتون کے کزن بتائے جاتے ہیں، اس شخص کو لوہے کے راڈز سے مار رہے ہوتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو ان کی مسلمان بیوی کے دو کزن نے تشدد کرکے قتل کر دیا ہے۔ مرنے والے فرد کا تعلق ہندوؤں کے دلت برادری سے تھا اور مبینہ طور پر ان کو مسلمان خاتون سے شادی کرنے پر قتل کیا گیا۔پولیس کے مطابق بی ناگا راجو اور عشرین سلطانہ، جو کہ بچن کے دوست تھے، نے تین مہینے پہلے شادی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی۔بدھ کی رات کو جب مذکورہ جوڑا بائیک پر باہر نکلا تو دو افراد نے ان کو راستے میں روکا اور لوہے کے راڈز سے ان پر حملہ آور ہوئے۔


ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملے کے فوراً بعد مجمع جمع ہوتا ہے لیکن کوئی بھی حملہ آوروں کو نہیں روکتا بلکہ کچھ تو موبائل نکال کر تشدد کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں۔عشرین سلطانہ کی جانب سے اپنے شوہر کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کے باوجود چند لمحوں کے اندر ناگا راجوں موقع پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔حملے کے بعد دونوں افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی کمیروں اور مجمع کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں وہ واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے۔عشرین سلطانہ اور ناگارا راجو نے 31 جنوری کو حیدرآباد کے آریا سماج مندر میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔ شادی کے بعد عشرین نے اپنا نام تبدیل کرکے پالاوی رکھ دیا تھا۔ تاہم ناگا راجو کے خاندان کے مطابق وہ اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔مذکورہ واقعے کے بعد حیدرآباد کے سرور نگر علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ بی جے پی کے مقامی کارکنان نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا ہے۔