حیدرآباد گینگ ریپ کیس میں اے آئی ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی کا بیٹا گرفتار

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ا رکن اسمبلی کے بیٹے کو پولیس نے حیدرآباد اجتماعی عصمت دری معاملہ میں ملوث ہونے پر حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے اس کو نابالغ بتایا جا رہا ہے ۔

 

عصمت دری کیس میں جن چھ ملزمان کی شناخت ہوئی ہے، ان میں سے تمام چھ کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ ان پر POCSO ایکٹ کے تحت الزام لگایا گیا ہے۔ شائستگی کی توہین اور مجرمانہ حملے کرنے کے لئے انڈین پینل کوڈ کی دفعات کے تحت الزامات درج کئے گئےہیں۔

انڈیا ٹوڈے نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق حیدرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا ہےکہ پارٹی کا آئیڈیا بنگلور کے ایک لڑکے نے تیار کیا تھا۔ ایک عثمان علی خان نے پب بک کروایا اور 28 مئی کو متاثرہ نے 1300 روپے ادا کیے اور اپنی دوستوں کے ساتھ پب میں گئی ۔واضح رہے سازش پب کے اندر رچی گئی تھی۔ جب متاثرہ کا دوست کلب سے نکلا تو ملزم نے متاثرہ کو پھنسایا ۔

عصمت دری میں ملوث پانچ افراد کی سزا 20 سال سے کم نہیں ہوگی، اور انہیں موت تک عمر قید یا سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم ایم ایل اے کے بیٹے کے لیے، جس پر متاثرہ کی شائستگی کی توہین کرنے کا الزام ہے، کم از کم پانچ سے سات سال کی قید کا اطلاق ہوگا۔

ایک 17 سالہ لڑکی، جو ایک پارٹی کے لیے ایک کلب گئی تھی، اس کے ساتھ 28 مئی کو ایک کار کے اندر پانچ لوگوں نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی تھی۔اس کے بعد پولیس نے لڑکی کے والد کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے کی گئی اور گرفتاری کے بعد سعد الدین نامی ایک ملزم نے انکشاف کیا کہ یہ جرم ٹویوٹا انووا کرسٹا کے اندر ہوا تھا۔ کار کو پولیس نے ایک فارم ہاؤس سے قبضے میں لے لیا ہے۔ان اطلاعات کے درمیان کہ ملزم نے گاڑی کو صاف کر دیا تھا، پولیس نے کہا کہ فارنسک ٹیموں نے واقعے سے متعلق کافی شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

دریں اثنا، بی جے پی کے ایم ایل اے ایم رگھونندن راؤ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اس کیس سے متعلق ایک ویڈیو جاری کیا، جس میں متاثرہ کی شناخت ظاہر کی گئی۔

4 جون کو، بی جے پی کے رکن اسمبلی نے ایک پریس کانفرنس میں، کچھ تصاویر اور ایک ویڈیو کلپ دکھایا اور الزام لگایا کہ اس میں اے آئی ایم آئی کے رکن اسمبلی کے بیٹے کی شمولیت نظرآتی ہے۔