حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے دفتر میں نوجوان کا قتل

2,230

حیدرآباد: حیدرآباد میں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم (اے آئی ایم آئی ایم) کے دفتر میں ایک شخص کا قتل کردیا گیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پارٹی کے مقامی میونسپل کارپوریٹرکے دفتر میں ایک 22 سالہ نوجوان کو چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔شدید زخمی مرتضیٰ کو اویسی اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ بچ نہیں سکا۔دفتر شہر کے للیت باغ علاقے میں واقع ہے۔ پولیس موقع پر موجود ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ٹی وی 9 بھارت ورش کی خبر کے مطابق حیدرآباد کے پرانے شہر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی کے مقامی لیڈر کے دفتر میں ایک طالب علم کا قتل کردیا گیا۔ طالب علم مقامی رہنما کا بھتیجا تھا اور اس سے ملنے آیا تھا۔ اس دوران کچھ نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا۔ ملزم طالب علم کو وار کرنے کے بعد فرار ہو گیا۔ وہ دراصل پارٹی کے مقامی رہنما کو نشانہ بنانے آئے تھے جو وہاں موجود نہیں تھا اور اس نے اپنے بھتیجے پر حملہ کیا۔ اس قتل کی اطلاع پولیس کو دی گئی ہے۔ پولیس فی الحال تفتیش میں مصروف ہے۔

معلومات کے مطابق للیتا باغ علاقے میں اے آئی ایم آئی ایم کے کارپوریٹر اعظم شریف کے دفتر پر کچھ نامعلوم لوگوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ اعظم اس دوران دفتر میں موجود نہیں تھے۔ ان کی جگہ ان کا بھتیجا یہاں موجود تھا۔ حملہ آوروں نے طالب علم کو پکڑ کر حملہ کیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کرتا اس نے طالب علم پر وار کر دیا اور فرار ہو گیا۔ خون میں لت پت طالب علم کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں کچھ دیر بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

سنتوش نگر علاقہ کے اے سی پی سرینواس نے بتایا کہ انہیں اس پورے معاملے کی اطلاع ملی تھی۔ للیتا باغ علاقہ کے کارپوریٹر کے دفتر میں لڑائی ہورہی ہے۔ وہ فوراً موقع پر پہنچے جہاں انہوں نے کارپوریٹر کے بھتیجے کو زخمی حالت میں پڑا پایا۔ انہوں نے اسے فوری طور پر اویسی اسپتال میں داخل کرایا۔ یہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال ملزم کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ سی سی ٹی وی میں بھی کچھ خاص نہیں ملا اور آس پاس کے لوگ بھی کچھ نہیں بتا رہے ہیں۔