نئی دہلی: کانگریس نے آج الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالہ کرنے کے بعد اب عقبی دروازے سے ملک کی اہم بندرگاہوں بھی کو نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے۔ کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ’میجر پورٹس اتھارٹی بل 2020‘ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مسودہ تیار کرتے ہوئے بہت سے امور کو پیش نظر نہیں رکھا گیا، جس سے اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔

شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی دے دی تھی، لیکن لوک سبھا تحلیل ہونے کی وجہ سے اس بل کو واپس لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو دوبارہ پیش کردہ بل میں شامل نہیں کیا گیا۔ لہذا اس بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے اور بندرگاہوں کی نجکاری سے متعلق تمام خدشات دور کیے جائیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سریش پربھو نے کہا کہ یہ بل ملک کی 7600 کلومیٹر طویل ساحلی سرحد کے پیش نظر ضروری ہے اور اس کے قانون بن جانے سے ملک کی معیشت میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد صرف بندرگاہوں کو ترقی دینا نہیں ہے بلکہ ملک میں بندرگاہ پر مبنی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس بل میں پورٹ مینجمنٹ کو خود مختاری دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جو اس کے کام کو پیشہ ور بنائے گا اور اس میں شفافیت لائے گا۔