مسلم سیاسی و سماجی قائدین، پرستاران اُردو کے لئے چیلنج۔۔
پونے(محمدمسلم کبیر کی خصوصی رپورٹ)حکومت مہاراشٹر میں برسرِ اقتدار نام نہاد سیکولر جماعتوں نے اقلیتوں کے تعلیمی، معاشی استحصال کو ہی اپنا وثیقہ بنا لیا ہے۔پھر معاملہ 5 فیصدی تحفظات کا ہو یا پھر مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے اقلیتی طبقات کی استحصالی ہو،اور ایسے کئی معاملات ہیں جہاں حکومت اقلیتوں کے ساتھ بھونڈا مذاق کر رہی ہے۔ اب حکومت نے مسلم سیاسی، سماجی اور تعلیمی قائدین کے سامنے نیا چیلنج کھڑا کیا ہے کہ ریاست کا معروف تعلیمی شہر” پونے” میں واقع دو سرکاری مشقی اُردو مدارس سمیت سرکاری اُردو ڈی ایڈ کالج ( لڑکوں کا) بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ 15/ ستمبر 2020 کو جاری مراسلے میں بھوانی پیٹھ اور مودی خانے کے سرکاری مشقی اُردو اسکول کو بند کر کے اس میں موجود طلبہ کو قریبی اسکول میں ضم کرنے اور اساتذہ کو اُن کے حسب مراتب آسامیوں کو تفویض کرنے کی ہدایت ایجوکیشنل کمشنر کو دی گئی ہے

3/ جنوری 2022 کو ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن پونے کے دفتر سے جاری مراسلہ بنام پرنسپل، اُردو ڈی ایڈ کالج پونے موصول ہوا جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019-20، 2020-21 میں طلبہ کے داخلوں میں کمی کے باعث اُردو ڈی ای ڈ کالج (لڑکوں کا) پونے کو بند کرنے کی سفارش ڈائریکٹر، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ پونے کی جانب سے کی گئی ہے۔دراصل مذکورہ دونوں سرکاری مشقی اُردو مدارس میں اور اُردو ڈی ای ڈ کالج (لڑکوں کا) پونے میں زیرِ طلبہ کی خاطر خواہ تعداد ہے۔ تعلیمی معیار بھی بہتر ہے۔اس کے باوجود ڈائریکٹر آف ایجوکیشن پونے کا ان کو بند کروانے کی سفارش کرنا اُردو دشمنی اور تعلیم حاصل کرنے والے غریب طلبہ کو تعلیمی دھارے سے محروم رکھنے کی سازش ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دیگر میڈیم کے مدارس پچھلے دس سالوں سے خالی پڑے ہونے کے باوجود اُنکے لئے فیصلہ دس سال بعد لیا گیا جب کے ان اردو مدارس میں طلبہ کی تعداد کافی ہوتے ہوئے بھی انہیں بند کرنے کا فیصلہ لینا کس حد تک درست ہے یہ بات فہم و ادراک سے دور ہے مثال کے طور پر لونی کال بھور کا مدرسہ جہاں پچھلے سات سال پہلے طلبہ کی تعداد صفر ہوچکی تھی لیکن اسکا فیصلہ اب کیا گیا۔

حالانکہ ان تینوں سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ایسے طلبہ ہوتے ہیں جو سطح غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں اور موٹی موٹی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ خصوصی بات یہ ہے کہ دونوں مشقی اُردو اسکولوں کے علاقے میں کوئی متبادل اسکول نہیں ہے۔اگر یہ دونوں اسکول بند ہوتے ہیں تو یقیناً اس علاقے کے غریب طلبہ تعلیم سے محروم رہیں گے۔دوسری بات کہ سرکاری اُردو ڈی ای ڈ کالج (لڑکوں کا) پونے میں بھی ایسے ہی طلبہ داخلہ حاصل کرتے ہیں جو دوسرے خانگی ڈی ای ڈ کالجس میں امتیازی کامیابی کے باوجود موٹی فیس بھرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔مودی خانہ اُردو سرکاری مشقی مدرسہ پونے کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ آج سے 103 سال قبل سن 1919 میں ملکہ وکٹوریہ اور سماجی مصلح بیرسٹر سر مولوی رفیع الدین احمد نے اس کی بنیاد رکھی۔حکومت کو چاہئے کہ اس اسکول کو قومی ورثہ کے تحت محفوظ رکھتے ہوئے اسکول جاری رکھے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پونے شہر کے سیاسی ،سماجی،تعلیمی قائدین، اُردو اساتذہ اور اولیاء طلبہ کی تنظیمیں ان سرکاری اُردو اداروں کو مستقل کرنے میں کونسا رخ اختیار کرتے ہیں۔