ناندیڑ::28 نومبر۔(ورق تازہ نیوز) مہاویکاس اگھاڑی حکومت آج دو سال مکمل کر رہی ہے۔ اس بارے میں جانکاری دیتے ہوئے تعمیرات عامہ کے وزیر اور ناندیڑ کے سرپرست وزیر اشوک راوچوہان نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت پہلے سے زیادہ مستحکم اور مضبوط ہو گئی ہے جب کہ سام-دام-ڈنڈ-بھید جیسی کئی کوششیں کر کے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اشوک چوہان آج مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں سے ناندیڑمیں ہوٹل چندرلوک میں خطاب کررہے تھے ۔ مہاویکاس اگھاڑٰ کی حکومت ریاست میں برسراقتدار آئی اور کورونا وباءبھی آگئی جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی۔ 1 لاکھ 57 ہزار کروڑ روپے کاجھٹکہ حکومت کے خزانے پر پڑا۔

مہاراشٹر حکومت کے یہ دو سال مہاراشٹر کی 61 سالہ تاریخ میں سب سے مشکل دور تھے۔مہاویکاس اگھاڑی کے دو سال کے دوران مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کا موقف اختیار کیا تھا۔ جی ایس ٹی میں ریاست کا حصہ اور اس کے ریٹرن وقت پر ادا نہیں کیے گئے اور مالی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے میں بھی ریاستی حکومت نے ترقیاتی کاموں کی روانی میں رکاوٹ پیدا نہ ہونے دیکر کام جاری رکھا ہوا ہے۔اشوک راو نے کہاکہ ناندیڑ ضلع کے سرپرست وزیر کی حیثیت سے میں نے بہت سے زیرالتوا ترقیاتی کاموں کاموں اور نئی اسکیموں کو تحریک دی ہے۔ 2014 سے 2019 تک بی جے پی حکومت کے دوران ضلع کی ترقی رک گئی تھی۔ میں نے اسے زندہ کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ناندیڑ-جالنہ سمرودھی ہائی وے پر 12,000 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ ہم اس پروجیکٹ کو 2024 میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ منصوبہ ہے کہ بلٹ ٹرین جالنہ-ناندیڑ ایکسپریس وے سے گزرے گی۔ ہ

م ناندیڑ سے حیدرآباد تک بلٹ ٹرین کا مطالبہ کریں گے۔ میں نے ضلع میں آبپاشی کے مسئلے کو حل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ لینڈی پروجیکٹ کے لیے 2,033 کروڑ روپے کی چوتھی ترمیم شدہ انتظامی منظوری دی گئی ہے۔ رضاکارانہ بازآبادکاری اسکیم کے لیے 169 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ فصل کے نقصان کے لیے ضلع کے کسانوں کو 455 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ انشورنس معاوضہ 1,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگا۔ ضلع سرکاری ہسپتال میں 300 بستروں کی منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔ناندیڑ ضلع میں کروڑوں روپے کی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بہت سے انتظامی ڈھانچے کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ ایک نئے نرسنگ کالج کی منظوری دی گئی ہے۔ ناندیڑ شہر میں سڑکوں کی ترقی کے لیے 368 کروڑ اور دوسرے مرحلے کے لیے 332 کروڑ روپے۔ آسنا ندی پر ریکارڈ 8 ماہ میں 30 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا پل بنایا گیا۔ناندیڑ شہر اور ریاست میں کئی ریکارڈ کام ہوئے ہیں، حالانکہ کورونا نے مالی وسائل میں کمی کی ہے۔ 2020-21 کے دو سالوں میں ریاست میں شاہراہوں کے لیے 6,482 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سکیموں پر سےنکڑوں کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ریاست میں سڑکوں کی ترقی کے لیے 0.5 فیصد کی کم شرح سود پر مالی امداد دستیاب ہوگی۔اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر ڈی پی ساونت، ضلع پریشد کی صدر منگارانی امبولگیکر، میئر جے شری پاواڑے، ضلع پریشد ممبر سنجے بیلگے، ماروت راو کاولے گروجی، ضلع ترجمان سنتوش پنڈاگڑے ‘منتجب الدین بھی موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔