حکومت کے خلاف کسان تحریک پھر شروع

321

دہلی :10/ ڈسمبر(ایجنسیز)کسان مخالف پالیسیوں اور ایم ایس پی و قرض معافی کو لے کر کسانوں نے ایک بار پھر تحریک شروع کر دی ہے۔ راجدھانی دہلی کے ٹیکری بارڈر پر 10 دسمبر کو نہ صرف کسانوں نے اپنی تحریک کا از سر نو آغاز کیا ہے، بلکہ ایم ایس پی نافذ کرنے اور مکمل قرض معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ’چنڈی گڑھ کوچ‘ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

دراصل کسانوں نے ہریانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو دیکھتے ہوئے چنڈی گڑھ پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا کہ بجٹ اجلاس کے دوران کسان تحریک ہریانہ کی کھٹر حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔ہفتہ کے روز ٹیکری بارڈر پر کسان لیڈران نے ہریانہ اسمبلی کے گھیراؤ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر کسان اپنے مطالبات سامنے رکھیں گے۔ اتنا ہی نہیں کسان لیڈران نے اپنے آگے کے منصوبوں کے بارے میں بھی بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’’24 تاریخ کو ہونے والی سنیوکت کسان مورچہ کی میٹنگ میں 26 جنوری کے دن کسان بڑے سطح پر مظاہرہ کا اعلان بھی کر سکتا ہے۔‘‘دراصل کسان پنجاب کے حسینی والا سے شروع ہوئی مشعل یاترا لے کر ہفتہ کے روز ہریانہ کے بہادر گڑھ پہنچے۔ ٹریکٹر ٹرایلیوں، گاڑیوں اور ریل گاڑی کے ذریعہ پنجاب اور ہریانہ کے مختلف مقامات سے کسان بہادر گڑھ پہنچے۔ بہادر گڑھ کے پرانے بس اسٹینڈ سے پیدل مارچ نکال کر مشعل یاترا ٹیکری بارڈر کے اسی مقام پر پہنچی جہاں ایک سال قبل کسانوں نے اپنی تحریک ملتوی کر دی تھی۔

ٹیکری بارڈر پر کسانوں کو دہلی جانے سے روکنے کے لیے زبردست سیکورٹی فورس کی تعیناتی ہوئی تھی، لیکن کسانوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ اس بار دہلی نہیں جا رہے۔قابل ذکر ہے کہ کسانوں کی ’مشعل یاترا‘ کے سبب تقریباً ایک گھنٹے تک دہلی-روہتک قومی شاہراہ پر ٹریفک جام رہا۔ یہاں کسان سڑک پر ہی بیٹھ گئے تھے اور کسان تحریک سے متعلق آگے کی پالیسی پر غور و خوض شروع ہو گیا۔ پھر ’چنڈی گڑھ کوچ‘ کا اعلان کیا گیا۔ کسان لیڈر مندیپ نتھوان نے کہا کہ ایم ایس پی کے مطالبہ کو لے کر ابھی تو وہ چنڈی گڑھ میں اسمبلی کے گھیراؤ کی تنبیہ کر رہے ہیں، لیکن ایم ایس پی کا مطالبہ پورا کروانے کے لیے کسانوں کو اگر لال قلعہ تک جانا پڑا تو بھی کسان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسان قرض کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے اس لیے حکومت سے کسانوں کا مکمل قرض معاف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔