Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کےلیے تبلیغی جماعت کوبنایا جارہاہے بلی کابکرا:ایس آئی او کا الزام

IMG_20190630_195052.JPG

نئی دہلی:نظام الدین مرکز میں غیر ملکی اور ملکی باشندوں کے قیام اور کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ کے بعد اس تبلیغی جماعت کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔ ایسے میں مختلف تنظیمیں تبلیغی جماعت کی حمایت میں آگے آئی ہیں۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم ایس آئی او کا کہناہے کہ انہیں یہ دیکھ کر انتہائی بدقسمتی اور مایوسی ہوئی ہے کہ تبلیغی جماعت کے ممبروں میں کورونا وائرس کے معاملات کے نا م نفرت انگیز اور اسلامو فوبیک پیغامات پھیلاتے ہوئے بدنام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے۔۔ جہاں سنگھ پریوار کی ٹرول فوج نے مرکزی حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے اس موقع کا فائدہ اٹھانا شروع کردیاہے۔ وہیں مرکزی دھارے کے میڈیا میں ‘سیکولر’ سیاست دانوں کے غلط بیانات اور غلط بیانی سے تبلیغی جماعت کی نیک نامی کو متاثر کیاجارہاہے۔

نظام الدین میں تبلیغی جماعت کا صدر دفتر جو نظام الدین مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے ، دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی باقاعدہ مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ جو بعض اوقات طویل مدت تک قیام کرتے ہیں ۔عام خبروں کی کوریج اور کچھ سیاستدانوں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کے مریض مرکز کے اندر ‘ پناہ لیے ہوئے’ تھے۔ ان مضحکہ خیز دعوؤں کے برخلاف نظام الدین مرکزکی جانب سے ایک تفصیلی بیان میں جاری کیاگیاہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جب سے ‘جنتا کرفیو’ اور لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے ، تب سے مرکز کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو مرکز میں پھنسے ہوئے لوگوں کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیاگیاتھا اور مرکز کے ذمہ داران مسلسل حکام اور متعلقہ ایس ڈی ایم سے رابطے میں تھے۔

یہ واضح ہے کہ اس سارے واقعے کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے اور اس لاک ڈاؤن کی وسیع پیمانے پر مسائل کا سامنا ہواہے۔ لاکھوں افرادکو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بغیر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیاگیاتھا۔ کیجریوال حکومت کی جانب سے دہلی سمیت ملک کی دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کرنے والےیومیہ مزدروں کو خطرہ میں ڈال دیا گیاہے۔جس سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامیاں منظر عام پر آگئی ہے۔ اس پورے معاملہ کو لیکر تبلیغی جماعت اور پوری مسلم کمیونٹی کو بلی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔عآپ کے رہنماؤں نے تبلیغی جماعت کے خلاف ایف آئی آر اور پولیس کارروائی کے لئے جو مطالبہ کیا ۔وہ خاص طور پر منافقانہ اور کھوکھلا ہے جیساکہ ہمیں نے دیکھا ہے کہ وہ کس طرح کسی بھی ایف آئی آر کا مطالبہ کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جر ات نہیں کرسکے۔ جو ابھی ایک مہینہ پہلے ہی دہلی کو جلا رہے تھے۔

حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے تبلیغی جماعت کو بنایا جارہاہے بلی کا بکرا: ایس آئی او کا الزام حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے تبلیغی جماعت کو بنایا جارہاہے بلی کا بکرا: ایس آئی او کا الزام

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان میں یہ واحد مذہبی مقام نہیں ہے جہاں پوری دنیا سے عقیدت مند آتے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ان تمام تنظیموں اور مقامات کے لئے انوکھا چیلنج پیش کیا ہے۔ جہاں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ صرف ذمہ دار ی یہ ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں اور حفاظت کے تمام رہنما خطوط پر عمل پیرا ہوں۔ یہاں تک کہ ان تمام اقدامات اٹھانے کے بعد بھی ، کچھ معاملات ہوسکتے ہیں ، خاص طور پر جہاں بیماری لاک ڈاؤن سے پہلے پہنچ چکی تھی۔

صحت کے اس سنگین بحران کے درمیان ، ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اس بیماری کی وباء پر قابو پائیں اور ان تمام لوگوں کی مدد کے لئے آگے آئیں، جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ یہ بحران یکجہتی ، ہمدردی اور افہام و تفہیم کا وقت ہے ، تعصب اور نفرت کے وائرس کو پھیلانے کا نہیں۔