حکومت کا لاک ڈاون و ضروری اشیا کی قلت اور کالا بازاری

ممبئی:25 مارچ (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب کرونا وائرس بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے ۱۲دن کے لاک ڈاون سے ایک جانب جہاں اس وبا ئ کے پھیلنے پر روک لگائی جا سکتی ہے وہیں اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ حکومت کے یہ اعلان کرنے کے باوجود بھی اشیا ئ ضروری دستیاب ہو گی اس کی قلت دیکھی جا رہی ہے دھڑلے سے اس کی کالابازاری ہو رہی ہے –

ذرائع کے مطابق بالخصوص مسلم علاقوں میں سبزی و اناج کی کالابازاری ہو رہی ہے اور دوکاندار منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں –

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

بھنڈی جو گزشتہ دنوں چالیس روپیہ فی کلو دستیاب تھی وہ اب ۰۸سے ۰۰۱روپیہ کلو دستیاب ہے اسی طرح سے ہری مرچ کا بھاؤ ۰۰۱روپیہ فی کلو وصول کیا جا رہا ہے –
لاک ڈاون کے دوران چند گھنٹوں کی چھوٹ میں دوکانوں پر لمبی قطاریں دیکھی گئیں جس میں سے چند ایماندار دوکانداروں کو گاہکوں سے ٹھیک ٹھاک رقم کے عوض اشیا ئ کو فروخت کرتے ہوئے دیکھا گیا –

کئی ایک دوکانداروں نے تو تمام گاہکوں کو ایک مقررہ حد میں ہی اشیا ئ کو دیتے دیکھا گیا مثلا ایک گاہک کو ایک کلو چاول و گیہوں اور پاؤ کلو ہی دال شکر دیتے ہوئے دیکھا گیا لیکن اسی طرح سے کالابازاری بھی دیکھی گئی اور سبزیوں کے داموں میں اضافہ دیکھا گیا –

دوکانداروں کا یہ کہنا تھا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ممبئی سمے متصلہ نیو ممبئی کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ سبزیوں کے ٹرک ممبئی میں داخل نہیں ہو رہے ہیں -لہذا مجبورا انہیں مہنگے داموں میں سبزیاں خرید کر گاہوں کو فروخت کرنا پڑ رہا ہے –

یہ بھی پڑھیں:  شرمناک! ریلی کے دوران ’ایمبولنس‘ کو راستہ دینے سے بنگال بی جے پی صدر نے کیا منع

اس سلسلے میں جب ریاستی حکومت کے نمائندوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ممبئی کے تمام سرحدی علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے لیکن اشیا ئے ضروری کے ٹرک کی آمدورفت جاری ہے –

ریاستی پولیس کنٹرول روم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منوج پاٹل نے خبر رساں ایجنسی یو این آئی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتلایا کہ محکمہ پولیس نے ایک سرکیولر جاری کر کے تمام ریاست کے پولیس اہلکاروں کو مطلع کیا ہے کہ وہ اشیائے ضروری کے ٹرکوں کو نہ روکے لیکن اشیائے ضروری سپلائی کرنے والے اداروں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے شیشے پر اشیائے ضروری کے اسٹیکر نصب کریں اور گاڑی میں سوار ڈرائیور سمیت دیگر ملازمین کو شناختی کارڈ دستیاب کرائے-
اشیائے ضروری کی قلت اور کالابازاری کی اطلاعات متعدد علاقوں سے موصول ہوئی ہے اسی طرح سے کرونا وائرس کی بیماری سے احتیاط برتنے کے لئے استعمال کی جانے والی لیریگو اور دیگر ملیریا کی دوائیوں کی بھی بھاری قلت دیکھی گئی ہے –

ناگپاڑہ علاقہ کے ایک تاجر اور سماجی خادم عزیز تاج بخش نے بتلایا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑا وائرل ہوا ہے جس میں ملیریا کی روک تھام کی دواؤں کو کرونا وائرس کی احتیاطی دوا کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ اس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہو گا اور کرونا وائرس کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے -اس بات کو لیکر دوائیوں کی دوکانوں پر اچانک ہی یہ دوا ختم ہو گئی –

یہ بھی پڑھیں:  علی گڑھ کے عامر قطب نے آسٹریلیا میں جیتا ایوارڈ، کبھی ایئرپورٹ پر تھے کلینر

انہوں نے کہا کہ اس دوا کو خریدنے کے لئے وہ ناگپاڑہ اور مدنپورہ کے علاوہ مجگاوں علاقہ کے درجنوں میڈیکل اسٹوروں کے چکر لگا چکے ہیں لیکن اب تک انہیں یہ دوا دستیاب نہیں ہوئی ہے اور ہر میڈیکل اسٹور سے یہی جواب مل رہا ہے کہ دواب اسٹاک میں نہیں ہے اور ختم ہو گئی ہے –

انہوں نے کہا کہ اس طرح سے بلڈ پریشر اور ذیابطیس کی دوائیں بھی آوٹ آف اسٹاک ہیں لہذا حکومت کو فوری قدم اٹھا کر ان میڈیکل اسٹور پر یہ دوائیاں دستیاب کرانی چاہیئے –

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me