لکھنؤ:(ایجنسیز) ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مخالفت کے درمیان اتر پردیش کے اقلیتی امورو وقف کے مملکتی وزیر دانش آزاد انصاری نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت تمام طبقات سے بات چیت کر کے ہی یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کی سمت میں پیش قدمی کرے گی۔انصاری نے بدھ کو بات چیت میں یکساں سول کوڈ کا معاملہ طول پکڑنے سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں کہا’سماج جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے تو اس کی کچھ نئی ضرورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے میں انہیں نافذ کرنا چاہئے۔

ہمارا ہر فیصلہ عوام کے مفاد کے لئے ہی ہوگا۔ ہمارے لئے عوام کی رائے سب سے اہم ہے۔ ہم اس کے بغیر کبھی آگے نہیں بڑھتے ہیں۔ہم سبھی طبقات سے بات چیت کر کے اور عوام سے رابطہ کر کے ہی یونیفارم سول کوڈ کی طرف آگے بڑھیں گے۔اترپردیش حکومت کے واحد مسلم وزیر نے کہا’ ہم قومی چوپال کے ذریعہ سے زمین سطح پر جاکر لوگوں کو خاص کر مسلم سماج کو یکساں سول کوڈ کے بارے میں بتائیں گے اور حکومت کی منشی کو لوگوں کے سامنے رکھیں گے۔قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکساں سول کو ڈ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت کے ایسے کسی بھی منشی یا قدم کی مذمت کی ہے۔

بورڈ کے جنرل سکریٹری مولان خالد سیف اللہ رحمانی نے منگل کو اپنے ایک بیا ن میں کہا تھا کہ اتراکھنڈ، اترپردش یا مرکزی حکومت کی طرف سے کامن سول کوڈ کا راگ الاپنا صرف بے وقت کی راگنی ہے۔مولانا نے مزید کہا تھا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ اس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی،گرتی ہوئی معیشت اور روز افزوں بے روزگاری جیسے مسائل سے توجہ ہٹانا ہے اور نفرت کے ایجنڈے کو فروغ دینا ہے۔یکساں سول کوڈ مسلمانوں کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔بورڈ اس کی سخت مذمت کرتا ہے اور حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ملحوظ رہے کہ گذشتہ کچھ وقت سے ملک میں یکساں سول کوڈ کا معاملہ ایک بار پھر کاف گرم ہوگیا ہے۔ یہ بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل اہم ایجنڈوں میں سے ایک ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے گذشتہ 23اپریل کو بھوپال میں بی جے پی کی ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ سی اے اے ، رامندر، آرٹیکل 370 اور تین طلاق جیسے مسائل کے فیصلے ہوگئے ہیں۔ اب یکساں سول کوڈ کی باری ہے جسے آنے والے کچھ سالوں میں حل کردیا جائے گا۔