نئی دہلی :تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے متحدہ کسان مورچہ کے اہم رکن اور سوراج انڈیا کے لیڈر یوگیندر یادو نے فصلوں کے منیمم سپورٹ پرائس یعنی ایم ایس پی کے موجودہ نظام کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یا تو حکومت اس کو قانون کے دائرے میں لائے یا اسے ختم کر دے ۔یادوہفتہ کے روز یواین آئی کہا کہ ایم ایس پی کے نام پر اس ملک میں گزشتہ 50 سے دھوکہ ہو رہا ہے اور اب تک کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا جاتا رہے گا ۔ حکومت کو اس ایم ایس پی کے سسٹم کو یا تو قانونی شکل دینی چاہئے یا اسے ختم کر دینا چاہئے ۔ ایم ایس پی کا تعین کر نے والا کمیشن فار ایگریکلچر کاسٹ اینڈ پرائز ز سرکاری ادارہ تو ہے لیکن اسے آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے ، اس لئے اس کی سفارشات حکومت پر لازمی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم ایس پی کا التزام صرف کاغذات تک ہی محدود ہے اور زمینی سطح پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب کسان فصل منڈی میں لے کر جاتا ہے تو اسے کسی نہ کسی بہانے ایم ایس پی برابر قیمت ادا نہیں کی جاتی اور اس کی فصل کی بولی ایم ایس پی کے نیچے ہی لگائی جاتی ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں