حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹراضافہ کردیا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹراضافے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اضافہ جمعرات نصف شب سے نافذالعمل ہورہا ہے۔وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں حکومت کے اس فیصلے کااعلان کیا ہے۔اس کے اطلاق کے بعد پیٹرول کی قیمت 179.86 روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت 174.15 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت 155.56 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 148.31 روپے فی لیٹر ہوگی۔

وزیر خزانہ نےوضاحت کی کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس قیمتوں میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔انھوں نے واضح کیا کہ نئی قیمتوں کے تحت ’’ہم اب بھی ڈیزل پر 56 روپے فی لیٹرکا نقصان برداشت کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر اقدامات نہ کیے جاتے تو ملک ’’غلط سمت‘‘میں جاسکتا تھا۔یہ وزیراعظم شہباز شریف کے لیے یہ ایک سخت فیصلہ تھا۔ہم سیاست کی خاطرریاست کو ڈوبنے نہیں دے سکتے۔وزیرخزانہ نے سابق وزیراعظم عمران خان پرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں منجمد کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ انھوں نے تب ایسا کیا تھاجب انھیں یہ احساس ہوا کہ ان کی حکومت کے دن توگنے جا چکے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ قیمتوں میں اضافہ صرف آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے نہیں کیا گیا ہے،ساتھ ہی کہا’’فنڈ نے فی الواقع اس وقت تک مزید قرض دینے سے انکارکردیا تھا جب تک کہ ہم قیمتیں نہ بڑھا دیں… لیکن ہمیں (بھی) یہ تلخ فیصلہ کرنا پڑا ہے‘‘۔

مفتاح اسماعیل نے اصرارکیا کہ جب بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری آئے گی،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔وزیرموصوف نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ’’بہت اچھے، مثبت مذاکرات‘‘ کیے ہیں اور آج ہم نے جو فیصلہ کیا ہے،اس کی بنیاد پرمزید مثبت مذاکرات کیے جائیں گے‘‘۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ عملہ کی سطح کا معاہدہ طے پا جائے گا۔میاں شہباز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی بیل آؤٹ معاہدے پرمذاکرات میں ناکامی کے ایک دن بعد کیا ہے۔یہ مذاکرات حکومت کی جانب سے ایندھن اور بجلی پر دیے جانے والے زرِتلافی پرعدم فیصلہ کی وجہ سے ناکام ہوئے تھے۔