ظفر سید Zaffsyed@
مغربی یوکرین کے نو ہزار آبادی والے قصبے روہاتین کے ایک پارک میں ایک 15 فٹ اونچے ستون پر کانسی سے بنا ایک خاتون کا بلند و بالا مجسمہ کھڑا ہے۔ آپ اگر کسی مقامی باشندے سے پوچھیں کہ یہ کس کا مجسمہ ہے تو وہ آپ کو ’روکسولانا‘ کا نام بتائیں گے۔یوکرین میں انہیں ’ناستیا لسووسکا‘ بھی کہا جاتا ہے، مگر بقیہ دنیا میں یہ عثمان سلطان سلیمان عالیشان کی طاقتور ملکہ حوریم سلطان کے نام سے مشہور ہیں۔ (واضح رہے ہمارے ہاں انہیں عام طور پر حوریم کہا یا لکھا جاتا ہے، مگر اصل نام خرم ہے، جس کا مطلب ہے خوش باش)

حوریم سلطان کا مجسمہ یوکرین کے قصبے میں کیا کر رہا ہے؟اس لیے کہ زیادہ تر مورخین کے مطابق وہ 1502 کے لگ بھگ یہیں پیدا ہوئی تھیں۔سلیمان عالیشان 1520 سے 1566 تک حکمران رہے اور ان کے اس عہد کو عثمانی سلطنت کا سنہرا دور قرار دیا جاتا ہے۔ اس دوران نہ صرف عثمانی سلطنت نے جنگی میدان میں بےمثال کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ثقافت کے مختلف شعبوں، علوم و فنون اور فنِ تعمیر کو بھی بےحد فروغ ملا۔

دھوبی گھر سے سلطان کی منظورِ نظر تک

یورپی حوریم سلطان کو روکسولانا کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’روکسولانیا کی لڑکی۔‘ روکسولانیا کچھ اور نہیں بلکہ اسی یوکرین کا لاطینی نام ہے جہاں آج کل جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

اگرچہ ٹھوس تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں لیکن روایت یہی کہتی ہے کہ حوریم سلطان 1505 کے لگ بھگ مغربی یوکرین میں پیدا ہوئی تھیں اور انہیں 15 برس کی عمر میں کرائمیا سے تعلق رکھنے والے بردہ فروشوں نے اغوا کر کے استبنول میں بیچ ڈالا تھا۔

استنبول میں عثمانی سلطنت کے وزیرِ اعظم ابراہیم پاشا نے، جو سلیمان کے بچپن کے دوست بھی تھے، روکسولانا کو خرید کر اپنے دوست کو بطورِ کنیز پیش کر دیا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ داستانوں اور فلموں میں تو دکھایا جاتا ہے مگر عام زندگی میں تو ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ چونکہ شہزادے کی کنیزوں کی تعداد بےحساب ہوا کرتی تھی، اس لیے اس ہجوم میں ایک عام سے ’دیہاتی‘ لڑکی کی کوئی خاص حیثیت نہیں تھی، اس لیے روکسولانا کو محل میں کپڑے دھونے کی خدمت پر مامور کر دیا گیا۔

ایک روایت کے مطابق نوجوان شہزادہ ایک رات محل سرا سے گزر رہا تھا کہ اس کے کان میں کسی کے گیت گانے کی آواز پڑی۔ آواز میں اتنی مٹھاس اور بولوں میں اتنا درد تھا کہ اس نے نوجوان شہزادے کے قدم جکڑ لیے۔

سلیمان کے سوانح نگار ہیرلڈ لیمب لکھتے ہیں کہ شہزادے کو تھوڑی بہت روسی زبان آتی تھی (یوکرینی اور روسی زبانیں ملتی جلتی ہیں)، اس نے روکسولانا سے پوچھا کہ وہ کیا گا رہی ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مختصر گفتگو میں روکسولانا نے اپنی ذہانت، رکھ رکھاؤ اور گفتگو کے سلیقے سے شہزادے کا دل موہ لیا۔

ذہانت اور سلیقے پر اس لیے زور ہے کہ روکسولانا کے نقوش اور چہرے مہرے کے بارے میں تاریخ کچھ زیادہ مداح سرا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر وینس کے سفیر پیئترو بریگدین نے لکھا ہے کہ روکسولانا ’نوجوان تھیں، مگر زیادہ حسین نہیں تھیں، تاہم ان کے ایک خاص وقار تھا اور وہ دبلی پتلی تھیں۔‘

اس سے اگر کسی کا ذہن تاریخ کی ایک مشہور شخصیت قلوپطرہ کی طرف جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ مشہور مورخ پلوٹارک نے قلوپطرہ کے بارے میں لکھا تھا کہ ’ان کا حسن اتنا بےمثال نہیں تھا کہ دیکھنے والوں پر کوئی گہرا تاثر چھوڑتا۔‘ آگے چل کر پلوٹارk لکھتے ہیں کہ قلوپطرہ کی جسمانی خوبصورتی سے زیادہ ان کی شخصیت دیکھنے والوں کو متاثر کرتی تھی۔‘ لیکن اس کے باوجود قلوپطرہ نے تاریخ پر جو اثر چھوڑا وہ سب کو معلوم ہے۔

اس پہلی ملاقات کا شہزادے پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے روکسولانا کے کندھے پر اپنا رومال رکھ دیا۔ اس کا مطلب دربار کی زبان میں یہ تھا کہ اب روکسولانا شہزادے کی منظورِ نظر ہونے کے ناطے ایک معمولی نوکرانی کے درجے سے عظیم جست لگا کر پوری عثمانی سلطنت میں ’والدۂ سلطان‘ اور ملکہ ماہِ دوران یعنی سلیمان کے سب سے بڑے بیٹے مصطفیٰ کی ماں کے بعد تیسرے نمبر پر آ گئی ہیں۔ اب روکسولانا کو ’حوریم سلطان‘ یعنی سلطان کو خوش کرنے والی‘ رکھ دیا گیا۔

اب تم میرا مقابلہ کرو گی؟

ظاہر ہے کہ ماہِ دوران کو حالات کا یہ رخ پسند نہیں آیا۔ اس کی تفصیل ہمیں وینس ہی کے ایک اور سفیر برناردو ناواگیرو کی زبانی ملتی ہے۔ وہ 1526 میں ایک سفارت لے کر استنبول گئے ہوئے تھے۔ وہاں انہوں نے جو واقعات سنے اور دیکھے ان کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ماہِ دوران نے حوریم سلطان پر گرج کر کہا، ’غدار، بکاؤ گوشت (یعنی جسے بازار میں فروخت کیا گیا تھا)، اب تم میرا مقابلہ کرو گی؟‘

یہ کہہ کر ماہِ دوران نے حوریم سلطان کا چہرہ اپنے ناخنوں سے نوچ ڈالا۔ اس واقعے کے بعد سلطان نے حوریم سلطان کو طلب کیا تو انہوں نے کہلوا دیا کہ میں اس وقت سلطان سے سامنے پیش ہونے کے قابل نہیں ہوں۔ سلطان نے حوریم سلطان کو دیکھنے پر اصرار کیا تب پتہ چلا کہ ملکہ نے ان کا کیا حال کیا ہے۔

سلطان نے ماہِ دوران کو ’اظہارِ وجوہ کا نوٹس‘ بھیجا تو تند مزاج ملکہ نے کہہ دیا،’جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے وہ اس سے زیادہ کی حقدار تھی۔‘

لیکن اس واقعے کا الٹا ماہِ دوران کو نقصان ہوا اور سلطان کے دل میں روکسولانا کی حیثیت اور بڑھ گئی۔ ماہِ دوران کے علاوہ سلطان کی اور بیویاں بھی تھیں مگر انہوں نے حوریم سلطان کو ’خاصکی سلطان‘ بنا لیا، یعنی سلطان کی خاص الخاص ملکہ۔ سلطان کے دل میں حوریم سلطان کا کیا مقام تھا، اس کا اندازہ سلطان کی ایک نظم سے لگائیے:

میرے روشن چاند، میری آبِ حیات، میری بہشت
میں تمہارے دروازے پر ایک خوشامدی ہوں
میں ہمیشہ تمہارے قصیدے پڑھتا ہوں
میں دکھی دل کا چاہنے والا، آنسوؤں سے بھری آنکھوں کا ’محبی‘ ہوں
میں خوش و خرم ہوں۔

یاد رہے کہ سلطان شاعر بھی تھے اور ’محبی‘ ان کا تخلص تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے حوریم سلطان نہ صرف سلیمان عالیشان کے محل میں، نہ صرف عثمانی سلطنت کی تاریخ میں، بلکہ تمام اسلامی تاریخ کی سب سے طاقتور خاتون بن گئیں۔ پہلے تو سلطان کی والدہ (دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا تعلق بھی کرائمیا سے تھا) کا انتقال ہو گیا اور پھر جب شہزادہ مصطفیٰ کو ایک صوبے کا گورنر بنایا گیا تو اس وقت کے دستور کے مطابق ماہِ دوران اپنے بیٹے چلی گئیں اور یوں توپ کاپی محل میں حوریم سلطان سیاہ و سفید کی مالکن بن گئیں۔

یوکرین اور عثمانی سلطنت

حوریم سلطان کی بقیہ کہانی ’میرا سلطان‘ ڈرامے میں دیکھی جا سکتی ہے، یہاں ہم تھوڑا سا گریز کرتے ہوئے اس بتانے کی کوشش کر رہے ہیں یوکرین سے عثمان سلطنت کا حوریم سلطان کے علاوہ بھی گہرا تعلق بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ترکوں کا یوکرین سے یہ واسطہ کہیں پرانا اور کہیں گہرا ہے۔

یہ واسطہ منگول فاتح چنگیز خان کے پوتے باتو خان کی فتوحات سے شروع ہوتا ہے۔ باتو خان نے سنہ 1230 کے عشرے میں مشرقی یورپ کا خاصا حصہ زیرِ نگین کر لیا تھا جس میں یوکرین اور روس کے علاقے بھی شامل تھے، حتیٰ کہ اس نے ماسکو کو بھی فتح کیا تھا اور وہ بھی سردیوں کے موسم میں۔ یہ وہ کام ہے جو ہٹلر سے نہ ہو سکا تھا۔

خیر ماسکو اس زمانے میں ایک چھوٹا سا دیہاتی قصبہ ہی تھا، اس لیے باتو خان کے لشکر میں شامل تاتاروں نے اس میں دلچسپی ظاہر نہیں بلکہ اپنے لیے ایک شہر کو بطور دارالحکومت منتخب کیا، جس کا نام رکھا قرم۔

یہی قرم بعد میں کرائمیا کہلایا اور یہ وہی صوبہ ہے جس پر 2014 میں روس نے قبضہ کر لیا تھا۔

13ویں صدی میں کرائمیا کے تاتاریوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تیمور لنگ کی جانب سے یہ علاقے تاراج کرنے کے بعد پورا علاقہ انتشار کا شکار ہو گیا، بالآخر ملک خاجى كراى‎‎‎ نامی ایک تاتار جنگی سردار نے کرائمیا پر اپنا جھنڈا گاڑ کر حکومت قائم کی جو ٹھیک تین سو سال تک چلتی رہی۔ اس حکومت کو ’خانات کرائمیا‘ (Crimean Khanate) کہا جاتا ہے۔ ’خانات‘ کا مطلب بادشاہی ہے اور اس کا تعلق لفظ ’خان‘ یعنی سردار سے ہے۔

حاجی کرای کا مزار کرائمیا کے شہر باغیچہ سرائے میں موجود ہے۔ یہی باغیچہ سرائے ایک عرصے تک کرائی خاندان کا دارالحکومت رہا ہے۔

1475 میں حاجی کرای کا بیٹا منكلى كراى‎ گرفتار ہو کر عثمانی سلطان محمد ثانی کے روبرو پہنچا اور خانات کرائمیا کو عثمانی سلطنت کا باج گزار بنانے پر آمادہ ہو گیا۔

عثمانیوں کی پشت پناہی ملنے کے بعد منکلی نے اپنے حریفوں کا قلع قمع کیا جب کہ اس کے بیٹے نے روسیوں کے ایک لشکر کو ماسکو کے قریب شکست دی جس کے بعد روسی انہیں خراج دینے پر مجبور ہو گئے۔

خانات کرائمیا اور عثمانی سلطنت کا یہ تعلق آنے والے عشروں میں مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ کرائمیا کے سرداروں کو یہ فائدہ تھا کہ انہیں عثمانیوں کی شکل میں اس زمانے کی سپر پاور کی آشیر باد حاصل تھی جو آس پاس کے ملکوں کی ان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے سے باز رکھتی تھی، جب کہ عثمانیوں کو خانات کی شکل میں بحیرۂ اسود کے اس اہم علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے کی سہولت حاصل تھی۔اس کے علاوہ عثمانیوں کو ہمہ وقت جاری جنگوں میں حصہ لینے کے لیے خانات کے علاقے سے جری شہسواروں کے تازہ دستے بھی برابر فراہم ہوتے رہتے تھے۔مزید یہ کہ خانات کے سردار آس پاس کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر غلام پکڑنے اور انہیں عثمانی سلطنت اور مشرقِ وسطیٰ میں بیچنے کا کاروبار میں بھی ملوث تھے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 1500 سے 1700 تک انہوں نے 20 لاکھ کے لگ بھگ غلام اور کنیزوں کی تجارت کی۔ایسی ہی ایک کنیز حوریم سلطان بھی تھیں جنہیں کرائمیا کے ملحقہ علاقے سے پکڑا گیا تھا جو اس وقت پولینڈ کا حصہ تھا۔

غلاموں کی تجارت

درحقیقت مشرقی یورپ کا یہ تمام خطہ غلاموں کی تجارت کے لیے مشہور رہا ہے۔ چنانچہ انگریزی کا لفظ slave دراصل Slav سے نکلا ہے جو کچھ اور نہیں بلکہ یوکرین اور اس کے آس پاس کے خطے میں آباد لوگوں کو کہا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ رومن اور بازنطینی دور سے چلا آ رہا تھا جس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ اس علاقے کے مرد جفاکش اور عورتیں حسین ہوا کرتی تھیں اس لیے یورپ اور ایشیا کی غلام منڈیوں میں ان کی بہت مانگ تھی۔ اسی وجہ سے غلاموں کا نام ہی slave پڑ گیا۔

کرائمیا براہِ راست عثمانی سلطنت میں شامل نہیں تھا لیکن عسکری، معاشی اور سیاسی طور پر اسے عثمانی دنیا کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔روسیوں کی باجگزاری اور اطاعت کا یہ سلسلہ 1774 تک جاری رہا۔ مگر اس کے بعد روسی زار کی طاقت ہر آنے والے سال کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور بالآخر روسی زارینہ کیتھرین دا گریٹ کی فوجوں نے 1783 میں کرائمیا کو فتح کر کے روسی سلطنت کا حصہ بنا ڈالا۔

1917 کے انقلاب کے بعد کرائمیا بھی سوویت یونین کا حصہ بن گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سٹالن نے اس شبے کے تحت کہ کرائمیا کے تاتاریوں نے ہٹلر کا ساتھ دیا تھا، ان کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ہزاروں خاندانوں کو گھر بار سے بےدخل کر کے ازبکستان بھیجا گیا، کچھ راستے میں مارے گئے، باقی ازبکستان پہنچ کر۔ بعض رپورٹوں کے مطابق جلاوطن خاندانوں میں سے 40 فیصد دو سال کے اندر اندر مر کھپ گئے تھے۔

سٹالن نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ کرائمیا سے ان کے تمام آثار مٹانے کی بھی کوشش کی۔ مسجدیں اور قبرستان مسمار کر دیے، پرانے محلات اور قلعے برباد کر دیے، حتیٰ کہ علاقوں اور شہروں کے پرانے نام تک بدل دیے۔ چنانچہ خانات کرائمیا کے دارالحکومت باغیچہ سرائے کا نام بدل کر ’پشکننسک‘ رکھنے کی کوشش کی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ پشکن کا نام اس لیے کہ اس عظیم روسی شاعر نے اسی باغیچہ سرائے پر مبنی ایک طویل رومانوی نظم لکھی تھی جو روسی ادب کے شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے۔

لیکن یوکرین پر عثمانیوں کا اثر و رسوخ کرائمیا تک محدود نہیں تھا۔ مشرقی یوکرین کے کئی دوسرے علاقے بھی ان کے زیرِ نگین رہے ہیں اور عثمانیوں نے یوکرین کے کچھ حصوں پر براہِ راست بھی حکومت کی ہے۔

1672 میں عثمانی فوج نے سلطان محمد چہارم کی قیادت میں پوڈولیا کو فتح کر کے اسے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ اس علاقے پر پولینڈ کے بادشاہ کی حکومت تھی۔ عثمانیوں نے پوڈولیا کو اپنی ’ایالت‘ بنا لیا جس کا مطلب صوبہ سمجھ لیں۔ ایالت عثمانی سلطنت کا مرکزی انتظامی یونٹ ہوا کرتا تھا۔

تاہم 1699 میں عثمانیوں نے ایک معاہدے کے تحت پوڈولیا کو پولینڈ کو واپس کر دیا۔

صرف عسکری طور پر بھی نہیں، ترکوں نے یوکرین پر ثقافتی اور لسانی اثرات بھی چھوڑے ہیں اور ترکی زبان کا اثر آج بھی یوکرینی زبان پر پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوکرینی زبان میں چرواہے کو ’چوبان‘ کہتے ہیں جو ترکی زبان سے آیا ہے۔ اسی طرح کلم (قالین)، کاون (خربوز)، ہاربوز (تربوز)، اور بہت سے دوسرے لفظ ایسے ہی جو ترکی سے آئے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ نے یوکرین پر روسی حملے کے دوران کئی شہروں میں ’میدان‘ کا لفظ سنا ہو گا۔ یہ وہی اردو والا میدان ہے البتہ اس کا مطلب ترکی میں چوک ہے، اور اسی معنی میں یہ یوکرین میں رائج ہے۔

ان میدانوں کی ایک مثال یوکرین کے دارالحکومت کیئف شہر کا تاریخی ’یورو میدان‘ ہے جہاں نہ صرف 1990 میں آزاد یوکرین کی تحریک شروع ہوئی، بلکہ 2014 کے ’نارنجی انقلاب‘ کا گڑھ بھی یہی چوک تھا۔

آج اسی حوریم سلطان کا یوکرین روسی یلغار کی زد میں ہے، اور ترکی بڑھ چڑھ کر اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ ترکی نے یوکرین کو جنگی ڈرون بھی دے رکھے ہیں جو روس کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ وجہ یہی کہ تاریخی رشتے بہت دور رس اور گہرے ہوتے ہیں۔