حیدرآباد ،۲۱ نومبر(پی ایس آئی)ریستوران میں پیش کئے جانے والا اور سپر مارکیٹوں میں حلال گوشت کے نام سے فروخت ہونے والی گوشت کیا واقعی میں حلال گوشت ہوتا ہے؟ حیدرآباد کے نیشنل ریسرچ سینٹر آن میٹ (اےن آرسی اےم) نے دعوی کیا ہے کہ پہلی بار انہوں نے لےبرےٹری ٹیسٹ ڈوےلپ کیا ہے. اس ٹیسٹ کے بعد سائنسی بتا سکیں گے کہ گوشت حلال کا ہے یا نہیں. اےن آرسی اےم کے سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ انہوں نے حلال کی گئی ایک بھیڑ اور بجلی کے جھٹکے سے ماری گئی بھیڑ پر کیا. اس ٹیسٹ کے بعد دونوں بھیڑوں کے گوشت میں بہت زیادہ فرق پایا گیا. سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ٹھیک ٹھیک سطح پر دونوں کا گوشت بالکل مختلف ہے. حلال کی گئی بھیڑ کے گوشت میں پروٹین کا خصوصی گروپ پایا گیا جو جھٹکے والے گوشت میں مختلف تھا. اسی تبدیلی کی بنیاد پر اب سائنسی بتا سکیں گے کہ حلال گوشت کے نام سے فروخت کیا جا رہا گوشت واقعی میں حلال کا ہے یا نہیں. سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ حلال گوشت کی شناخت کرنے کا یہ دنیا کا پہلا ٹیسٹ ہے. سائنسدانوں نے بتایا کہ خون جیوراساینک معیار اور پروٹین اسٹرکچر (پروٹیمک پروفائل) کی تحقیقات کی بنیاد پر حلال گوشت کی نشاندہی کی جا سکتی ہے. تحقیقات کے اس طریقے کو ‘ڈفرینس جیل الےکٹروفارےسس’ کہتے ہیں. اس کی بنیاد پر دونوں گوشت کے مسلز پروٹین میں فرق نکالا جا سکتا ہے. اتنا ہی نہیں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کو کاٹنے سے پہلے ان میں جو کشیدگی ہوتی ہے اس کی بنیاد پر بھی گوشت کی نشاندہی کی جا سکتی ہے.


اپنی رائے یہاں لکھیں