ریاض:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہیکہ حقیقی اسلام کی جانب لوٹنا ہمارا نصب العین ہے، سعودی عرب میں اب کسی مذہبی نقطہ نظر کی اجارہ داری نہیں ہے۔ امریکی جریدے اٹلانٹک کو خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مستند احادیث نبوی کے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران پڑوسی ہیں، جدا نہیں ہوسکتے، سعودی عرب نے4 ماہ میں ایران کیساتھ کئی مذاکرات کیے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی جنگ نے شدت پسندوں کو اکھٹا ہونے کا موقع دیاہے۔سعودی ویژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے بتایا کہ کچھ طاقتیں ویژن 2030 کو ناکام کرنیکی کوششیں کررہی ہیں، سعودی عرب تیز ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں سعودی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، چین میں سعودی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالرز سے کم ہے لیکن یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔