طالبان کے سب سے خفیہ رہنماؤں میں سے ایک، جن کی امریکہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں موجود تصویر ڈھکی ہوئی اور غیر واضح ہے، آخرکار منظر عام پر آگئے۔انہیں پہلی بار عوامی طور پر افغان پولیس کے نئے اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں دیکھا گیا۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اس سے قبل صرف پیچھے سے غیر واضح طور پر تصویر بنواتے تھے۔ یہاں تک کہ طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد بھی وہ سامنے نہیں آئے تھے۔

اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کے اطمینان اور اعتماد کو بڑھانے کے لیے، میں آپ کے ساتھ ایک عوامی میٹنگ میں میڈیا کے سامنے آ رہا ہوں۔‘طالبان کی کابل میں واپسی سے پہلے حقانی طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ کے تین نائبین میں سب سے سینیئر تھے۔اخوندزادہ خود بھی برسوں سے منظر عام پر نہیں آئے اور بہت سے افغان تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید وہ زندہ بھی نہ ہوں۔حقانی طالبان کے ایک طاقت ور ذیلی گروپ کے سربراہ ہیں, جسے گذشتہ 20 سالوں کے بدترین تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔امریکہ نے ان کی گرفتاری کا سبب بننے والی معلومات کے لیے ایک کروڑ ڈالرز تک کے انعام کی پیشکش کی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے کئی حملوں کے ذمہ دار ہیں۔حقانی کی تصویریں ہفتے کو سوشل میڈیا پر طالبان کے عہدے داروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔انہوں نے پہلے صرف ایسی تصاویر بنوائی تھیں جن میں ان کا چہرہ نہیں دکھایا گیا تھا، یا اسے ڈیجیٹل طور پر دھندلا کر دیا گیا تھا۔ہفتے کو ہونے والی پولیس پریڈ میں سراج الدین حقانی حقانی طالبان سیاہ پگڑی اور سفید شال پہنے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے اپنا چہرہ دکھا رہے ہیں تاکہ ’آپ جان سکیں کہ ہماری قیادت میں ہماری کتنی قدر کی جاتی ہے۔‘ان کا منظر عام پر آنا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ 15 اگست کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان ملک پر اپنی گرفت کے بارے میں اور زیادہ پر اعتماد ہو گئے ہیں۔جس تقریب میں اس تقریر کر رہے تھے اس میں کئی ممالک کے سفارت کار بھی موجود تھے، جن میں پاکستان کے سفیر بھی تھے، گو کہ کسی بھی ملک نے ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔حقانی نیٹ ورک، جس کی بنیاد 1970 کی دہائی میں جلال الدین حقانی نے رکھی تھی، کو افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف مجاہدین کی جنگ کے دوران سی آئی اے کی طرف سے بہت زیادہ مدد حاصل تھی۔سراج الدین حقانی، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمر 40 کی دہائی میں ہے، جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں اور 2018 میں ان کی موت کے بعد ان کے جانشین بنے ہیں۔

سراج الدین حقانی کو 2008 میں کابل کے سرینا ہوٹل پر ہونے والے مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے علاوہ ان پر سابق افغان صدر حامد کرزئی کے خلاف کم از کم ایک قاتلانہ حملے کرنے کا الزام تھا۔ایف بی آئی کے انعامات برائے انصاف پروگرام کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ ’قریبی تعلقات‘ برقرار رکھتے ہیں، اور ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد‘ ہیں۔اطلاعات کے مطابق وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پہاڑی علاقے میں کئی امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔انہوں نے 2020 میں نیو یارک ٹائمز کے لیے ایک آرٹیکل بھی لکھا تھا جس کا عنوان ’ہم طالبان کیا چاہتے ہیں۔‘ اس مضمون پر اخبار پر ’دہشت گردوں‘ کو پلیٹ فارم فراہم کرنے پر تنازع بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔