حضرت مولانا محمد معین الدین قاسمیؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے

0 24

ادارہ مرکزالعلوم کے طلباء میں یونیفارم کی تقسیم و دعائیہ نشست سے سرکردہ علماء، عمائدین شہر کا خطاب

DSC_4239

ناندیڑ: 31؍اکتوبر ( منور خان/ شیخ اکرم) بانی ادارہ مرکزالعلوم ناندیڑ حضرت مولانا محمد معین الدین قاسمی نوراللہ مرقدہٗ کی رحلت کے تین ماہ بعد آج مولانا کے لگائے پودے ادارہ مرکزالعلوم میں آج ان کے لئے دعائیہ نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مراٹھواڑہ کے ممتاز عالم دین مفتی مولانا محمد خلیل الرحمن قاسمی کی زیر صدارت منعقدہ اس تقریب میں مقررین و علمائے کرام نے حضرت مولانا محمد معین الدین قاسمیؒ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ادارہ کے موجودہ مہتمم مولانا مرحوم کے فرزند حضرت مولانا محمد حامد الدین اظہر کاشفی اس دعائیہ نشست کے داعی تھے۔ انتہائی باوقار لیکن پُراثر تقریب میں معروف مفسر قرآن حضرت مولانا مظہرالحق کامل قاسمی صاحب( مہتمم دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر)، مولانا فیصل عثمان صاحب قاسمی ( مہتمم دارالعلوم کربلا)، مولانا محمد سرور قاسمی ( صدر صفاء بیت المال شاخ ناندیڑ)، مفتی محمد شفیع صاحب قاسمی( وائی بازار)، قاضی مفتی محمد سلیمان صاحب قاسمی ، صدر ادارہ مرکزالعلوم الحاج عبدالوحید صاحب انجینئر بطور خاص مدعو تھے۔ حضرت مولانا مرحوم کے شاگرد خاص حضرت مولانا مظہرالحق قاسمی صاحب نے اس موقع پر مولانا مرحوم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اشکبار آنکھوں سے ان کی یادوں کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضر ت مولانا کے سینچے گئے اس پودے کی آبیاری ان کے ہونہار فرزند حضرت مولانا محمد حامد الدین اظہر کاشفی بحسن و خوبی کررہے ہیں جس کا ثمر یہ ہے کہ آج ادارہ میں طلبہ کی تعداد قابل لحاظ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ مولانا نے دینی ، تعلیمی، سماجی میدان میں اپنے کارکردگی کے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ انمٹ ہیں۔ حضرت مولانا محمد سرور قاسمی نے مولانا مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ تین ماہ گزر جانے کے باوجود اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ مولانا ہم میں موجود نہیں ہیں۔ ادارے میں تعلیمی سرگرمیاں حسب سابق جاری دیکھ کر بے انتہا مسرت ہورہی ہے۔ مولانا فیصل عثمان قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ کم عمری میں حضرت مولانا محمد حامد اظہر الدین کاشفی پر جو ادارہ کی ذمہ داری آن پڑی ہے الحمدللہ وہ اُسے بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں اس کا اندازہ ادارہ میں طلبہ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حضرت مولانا مرحوم کی مغفرت کی دعا بھی فرمائی۔ حضرت مولانا محمد معین الدین قاسمیؒ کے رفیق ایڈوکیٹ قاضی ذوالفقارالدین صدیقی نے فرمایا کہ آج ادارہ میں داخل ہونے کے بعد اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ مولانا ہم میں موجود نہیں ہیں بلکہ ایسا لگا مولانا مرحومؒ حسب معمول ادارے کے کام کی غرض سے سفر پر گئے ہوئے ہیں او رادارہ کی سرگرمیاں حسب سابق انجام پارہی ہیں۔ انہوں نے مولانا محترم سے اپنی دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا ملت کی دینی، علمی بیداری کے لئے ہمیشہ اپنے دل میں تڑپ رکھتے تھے او راپنی رہنماء تقاریر کے ذریعہ ملت کی بہبود کے لئے سرگرم تھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ادارہ کو مولانا محترم کی سرپرستی حاصل نہ رہی وہیں مدرسہ کی معاشی حالت دگرگوں (کمزور) نظر آتی ہے۔ اس لئے شہر و ضلع کے مخیر حضرات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مولانا محترم کے اس گلشن کی آبیاری کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں مالی مدد فرمائیں تاکہ مولانا کا سینچا ہوا یہ پودا ایک تناور درخت میں تبدیل ہوجائیں۔ اس تقریب میں مولانا مفتی خلیل الرحمن قاسمی کے فرزند مولانا فضل الرحمن بھی موجود تھے جنہوں نے گزشتہ شب دیکھے ہوئے خواب کو سناتے ہوئے کہا کہ ’’ حضرت مولانا محمد معین الدین قاسمی ؒ گزشتہ شب ان کے خواب میں آئے اور اُن کو تاکید کی کہ آج ادارہ مرکزالعلوم میں پہنچیں جہاں دعائیہ نشست کا اہتمام کیا جارہا ہے۔‘‘ اپنے خواب کو سناتے ہوئے مولانا فضل الرحمن آبدیدہ ہوگئے۔ صدارتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی خلیل الرحمن صاحب قاسمی نے اپنے جامع خطاب میں پہلے تو حضرت مولانا مرحومؒ کی خدمات کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ میرے ہمعصر مولانا محمد معین الدین قاسمی صاحب کے انتقال سے ناندیڑ ہی نہیں بلکہ مراٹھواڑہ کے دینی محاذ پر جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے یارِ غار تھے۔ سفر حضر میں ان کا ساتھ تھا۔ مولانا محترم نسل نو کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے لئے ہمیشہ فکر مند رہا کرتے تھے۔ مفتی خلیل الرحمن نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ مولانا کے انتقال کے بعد کچھ حلقوں میں یہ مذموم پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا کہ مولانا کے فرزندان ادارہ کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ لیکن الحمدللہ مولانا محترم کے فرزندان بالخصوص موجودہ مہتمم مولانا حامد اظہرالدین کاشفی، مولانا محمد شہاب الدین( محاسب و منتظم) نے بدخواہوں کے پروپیگنڈے کو پوری طرح غلط ثابت کردیا۔ آج ناندیڑ ہی نہیں مراٹھواڑہ میں ادارہ مرکزالعلوم کو اوّلیت حاصل ہوئی ہے کہ اُس نے مدرسہ کے طلبہ کے لئے باتصویر شناختی کارڈ جاری کئے۔ اپنے نوعیت کا یہ پہلا ادارہ ہے جہاں طلبہ کی شناخت کے لئے اس طرح کے کارڈ تقسیم کئے گئے۔ مفتی خلیل الرحمن صاحب نے مزید کہا کہ دینی ادارے مسلمانوں کی بقاء کے لئے انتہائی ضروری ہے اور ان مدرسوں کی بقاء کا انحصار مخیر حضرات کی جانب سے مالی تعاون ہے۔ انہوں نے ادارہ مرکزالعلوم کو زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کرنے کی اپیل بھی کی۔ قبل ازیں قاضی مفتی سلیمان نے مدرسہ کی تین ماہ کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تین ماہ کے دوران بیرون علماء کرام کو مدعو کرتے ہوئے مدرسہ میں شعبہ حفظ کے طلبہ کی جانب سے قرآن مجید کی سماعت کی جاتی ہے، تین ماہ کے دوران مدرسہ ہٰذا کے شعبہ حفظ کے 22 طلباء حفظ کے میدان میں پیشرفت کرچکے ہیں اور ان کی کارکردگی پر مدعو علماء کرام نے اظہار اطمینان کیا ہے۔ دوران تقریب مولانا حامد اظہرالدین کاشفی کو بارہا اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دعائیہ نشست میں جمعیت علماء کے سیکریٹری قاری محمد رفیق، قاضی صدیق محی الدین ( خطیب عیدگاہ ناندیڑ)، مدیر اعلیٰ ورقِ تازہ محمد تقی، مدیر اعلیٰ روزنامہ تہلکہ ٹائمز محمد طاہر سوداگر، مدیر اعلیٰ روزنامہ کامل یقین محمد صادق، روزنامہ بول چال کے ایڈیٹر محمد اظہر راج، روزنامہ ناندیڑ ٹائمز کے مدیر اعلیٰ منتجب الدین، سینئر صحافی محمد قمرالاسلام، سابق میئر عبدالستار، اقلیتی سیل کانگریس کے ریاستی نائب صدر مسعود احمد خان،پریس فوٹو گرافر منور خان، کنٹریکٹر سید ظفر ، شاعر و ادیب منیرالدین منیر، امیر تبلیغی جماعت عبدالقیوم صاحب، سید اظہر علی، عبدالرزاق صاحب (سابقہ ڈی وائے ایس پی)حافظ محمد اسمٰعیل سلیمانی، حافظ سید خالد عارفی اور دیگر سرکردہ علماء کرام، شہریان، دینی مدارس کے اساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ دعائیہ نشست میں شرکت کرنے والوں کا خیر مقدم محمد شہاب الدین نے کیا۔ ابتداء میں ادارہ کے طلباء نے اپنی دینی تعلیمی پیشرفت کا عملی مظاہرہ کیا۔ جس کی نظامت ادارہ کے اُستاذ مولانا حافظ محمد عیسیٰ صاحب قاسمی نے کی۔ مولانا مفتی خلیل الرحمن قاسمی کے ہاتھوں طلباء میں یونیفارم اور شناختی کارڈ تقسیم کئے گئے۔ ادارہ کے اساتذہ مولانا سراج رشیدی، حافظ محمد فیصل تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے موثر کردار ادا کیا۔