مالیگاؤں:10. اپریل ۔آج یہ المناک خبر موصول ہوئی کہ مہاراشٹر کے ممتاز اور قدیم عالم دین حضرت مولانا عبداللہ قاسمی ناظم مجلس علماء مراٹھواڑہ صبح دس بجے اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ وارحمہ و عافہ واعف عنہ واکرم نزلہ۔مولانا عبداللہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ان علماء ربانیین میں سے تھے جن کی خدمات اور کارنامے عام طریقے پر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں، لیکن وہ اس ستون کے مانند ہوتے ہیں جن کی مضبوطی کی وجہ سے امت کو تقویت ملتی ہے، مولانا رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز اور قدیم فضلاء میں سے تھے، انہوں نے تاحیات اکابرین دیوبند کے نقش قدم کو اپنے لیے رہنما بنایا اور بڑی خاموشی کیساتھ خدمت دین متین میں لگے رہے۔ ادارہ نہی عن المنکر کے ذریعے بھی انہوں نے قابل قدر خدمات انجام دی ہے، احقاق حق اور ابطال باطل کے حوالے سے وہ بڑی قیمتی شخصیت تھے حق بات کو سننا حق بات کو پسند کرنا حق بات کی تبلیغ کرنا ان کی نمایاں صفت تھی وہ ہوا کا رخ دیکھکر چلنے کے عادی نہیں تھے ، تملق اور خوشامد کی راہ ان کے ہاں پسندیدہ نہیں تھی وہ کھرے انسان تھے ،اس لیے صاف اور بےلاگ گفتگو فرماتے تھے،۔


حدیث شریف میں یہ بات آئی ہے کہ جس شخص کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا وہ خوش نصیب ھے حضرت مولانا عبداللہ قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو یہ دونوں نعمتیں حاصل تھیں، اس لیے بجا طور پر انہیں خوش نصیب کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نوے سال سے زائد عمر پائی اور اپنی عمر کا بڑا حصہ ملک و ملت کی اور علوم دینیہ کی خدمت میں گذارا۔ ان سے فیض پانے والوں کی بڑی تعداد ہے، وہ بڑے شریف، خاموش طبع اور متواضع عالم دین تھے۔ مجھے بارہا ان سے ملاقات کی عزت حاصل ہوئی، وہ مجھ پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ شب برأت گزر کر جمعہ کے دن ان کی رحلت اللہ کے یہاں ان کے مقام بلند کی ایک نشانی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے، ان پر رحمتوں کی بارش فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اس طرح کا پریس نوٹ
  محمد عمرین محفوظ رحمانی ،سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ(مالیگاؤں)نے جاری کیا ہے ۔