Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

حضرت مولانا سعد کاندھلوی دامت برکاتہم کا ذمداران دعوت و تبلیغ کے نام خاص پیغام

IMG_20190630_195052.JPG

یوسف حیدر میواتی

متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ

وبائی مرض کرونا وائرس (کووڈ 19) کی وجہ سے چونکہ حکومتی سطح پر پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہے اور ہمارے مؤقر مفتیان کرام اور علماء اسلام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے ہدایات جاری کی ہیں اس کے پیش نظر مادرعلمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی انتظامیہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ "تمام حضرات اپنی اپنی قیام گاہوں پر نمازیں پڑھیں اور احتیاطی تدابیر کے طور پر پنج وقتہ نمازوں خاص طور پر جمعہ کی نماز کے لئے ندوۃ العلماء کی مسجد میں نہ آئیں.

اس کے علاوہ عالم اسلام کی عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے طلباء و اساتذہ کرام کو پارکوں اور دارالعلوم کی قدیم دارالحدیث کے اردگرد ٹکڑیوں میں بٹ کر نماز باجماعت پڑھتے ہوئے دیکھا ان کا یہ عمل قابل اتباع اور لائق تحسین عمل ہے.
اس باوجود دیکھا یہ جارہا تھا کہ مفتیان کرام کے جاری کردہ فتاویٰ اور ماہرین صحت کی پیش کردہ تجاویز اور احتیاطی تدابیر کا عوام پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ معمول کے مطابق مسجدوں میں نمازیں پڑھتے رہے۔

حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم نے بھی اپنے متبعین اور ذمداران دعوت و تبلیغ سے بھی تاکید کے ساتھ مساجد کو زیادہ سے زیادہ آباد کرنے کی ہدایت دی جس کی وجہ سے حالات پر قابو پانے کے لئے حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے بعض علاقوں میں نمازیوں پر مجبوراً لاٹھی چارج کرنے کے آڈرس دئے اور مسجدوں کو بند کردیا گیا جب یہ صورتحال پیش آئی تو اب امیر تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد سعد کاندھلوی دامت برکاتہم نے اپنا موقف بدلتے ہوئے یہ بیان جاری کیا
*”احتیاطی تدابیر اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنا توکل ، یقین اور شریعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ احتیاط نہ کرتے ہوئے اگر کوئی نقصان اٹھاتا ہے تو اسے اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم قوانین اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر اس درجہ عمل کریں جن سے ہمارے اعمال متأثر نہ ہوں ، اگر ان تدابیر اور ہدایات کا صرف اس درجہ اہتمام کریں جہاں تک آپ کے اعمال متأثر نہ ہوں (تو کوئ حرج اور خسارے کی بات نہیں)جہاں آپ کے اعمال ضائع ہوگئے وہاں اللہ تعالٰی آپ کو ڈاکٹروں کے حوالہ کر دیں گے اور اپنی مدد اور نصرت کا ہاتھ کھینچ لیں گے ، اس لئے یہ ہم سب کی ذمداری ہے کہ ہم قوانین کا اہتمام کریں اور سارے عالم کو ان پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ قواعد و قانون اور ڈاکٹروں کی آراء و احتیاطی تدابیر کی رعایت کرنا یہ دعوت و تبلیغ کے اصول و ضوابط اور اس کے مزاج کے عین مطابق ہے اگر آپ ان احتیاطی تدابیر کا بلکل انکار کروگے تو صحابہ کے توکل اور یقین کا انکار کرنا لازم آئے گا کیونکہ انبیاء کرام اور صحابہ کرام نے بھی اپنے تحفظ کے لئے (باوجود اللہ تعالٰی پر یقین کامل ہونے کے) جنگوں میں خود پہننا اور زرہیں زیب تن کرنا (ثابت ہیں)اوریہ چیزیں یقین و توکل کے خلاف نہیں ہیں. اس لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے انکار کرنا عقلمندی کی بات نہیں ہے. اس لئے میں پھر کہہ رہا ہوں یاد رکھنا "تدابیر بطور احتیاط کے ہیں اور اعمال بطور یقین کے ہیں” ان باتوں کا سب خیال رکھیں ، راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھو ، بیماری کا تذکرہ کرنے کے بجائے اللہ تعالٰی سے مدد مانگو اور میں عرض کرتا چلوں کہ جماعتیں اپنے علاقوں کی طرف لوٹ رہی ہیں اور ان کو لوٹنا بھی چاہیے ، گھروں پر جاکر نفلی روزہ رکھو ، نمازوں اور تہجد کا اہتمام کرو اور اپنے کسی عمل کو ضائع نہ ہونے دیں کیونکہ یہ وقت اعمال کے ضائع کرنے کا نہیں ہے اور میں آپ سے پھر کہوں کہ بیماری کا مذاق نہ اڑانا کیونکہ بعض مرتبہ اللہ تعالٰی عذاب لاتے ہیں تاکہ لوگ توبہ و استغفار کریں اگر لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ تعالٰی کے عذاب کا تمسخر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو بڑھا دیتے ہیں کیونکہ پہلی قوموں پر جو عذاب آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نشان عبرت بنا دیا اس لئے ہم ہر حال میں رجوع الی اللہ کرتے رہیں یہ وقت توبہ و استغفار کی کثرت اور دعوت کو بڑھانے کا ہے میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان تمام باتوں پر عمل کریں گے ان شاء اللہ

حضرت مولانا محمد سعد کاندھلوی دامت برکاتہم کے اس مفصل اور وضاحتی بیان کے آنے کے بعد بھی اگر تبلیغی حضرات اپنی ہٹ دھرمی اور ضد سے باز نہیں آتے ہیں اور ان کے اوپر پولس انتظامیہ کارروائی کرتی ہے تو اس کی ذمدار وہ خود ہوں گے اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ حضرات کی لاپرواہی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ جائے
اللہ تعالٰی عالم انسانیت خصوصاً مسلمانان عالم کی ہر طرح کے آلام و مصائب اور کرونا وائرس جیسے مہلک بیماریوں اور وبائ امراض سے پوری پوری حفاظت فرمائے آمین ثم آمین

27/3/2020 بروز جمعہ