جمعیۃ علماء  مہا راشٹرکی جانب سے اظہار تعزیت  

ممبئی  2؍ فروری ۔ ( پریس ریلیز ) یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ قطب دکن حضرت مولانا شاہ عبد الغفور صاحب قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے شاگرد حضرت مولانا امجد علی قاسمی ؒ( استاذ جامعہ قاسم العلوم جلکوٹ ناکہ اودگیر ضلع لاتور ) کا مختصر علالت کے بعد کل گذشتہ شام 6 ؍ بجے انتقال ہو گیا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملےانا للہ و انا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا کے سانحہ ارتحال پرگہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمدندیم صدیقی نے کہا کہ حضرت مولانا کی رحلت سے نہ صرف جامعہ قاسم العلوم اوگیر ایک باکمال اور باصلاحیت استاذ و مربی سے محروم ہو گیا ہے بلکہ اس سانحہ کی وجہ سے پورہ علاقہ غم زدہ ہے ،جامعہ قاسم العلوم کے مہتمم مفتی ابرارالحق صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور ہزراروں سوگواروں کی موجودگی میںمقبرہ نوابان اودگیر میں تدفین عمل میں آئی۔

مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ حضرت مولانا امجد علی قاسمی صاحب( قطب دکن حضرت مولانا عبد الغفور قریشی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ و مجاز شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ) کے اولین شاگردوں میں سے تھے حضرت قطب دکن نے ان کے والد سے دینی تعلیم کے لئے انہیں مانگا تھا اور انہیں اپنےگھر پر رکھ کر دینی تعلیم و تربیت دیا ،اور پھر انہیں اعلی تعلیم کے لئے دار العلوم دیو بند روانہ کیا ،دار العلوم دیو بند سے فراغت کے بعد حضرت قطب دکن کے ساتھ تعلیم و تدریس کے کام میں منسلک ہو گئے مولانا مرحوم نے تقریبا تیس سال زائد عرصہ تک جامعہ قاسم العلوم اودگیر میں درس و تدریس کی خدمت انجام دیں ، ہزاراوں طلباء نے ان سے استفادہ کیا ۔
مولانا مرحوم یک جید عالم دین، باصلاحیت اور باکمال شخص تھے، درجہ اولیا ءکی کتابیں آپ سے منسلک تھیں ،تدریس میں اللہ نے کافی ملکہ عطاء فر مایا تھا ،مختلف علوم و فنون کی کتابیں انہیں ازبر یاد تھیں خاص طور پر نحو صرف اور منطق و فلسفہ میں بہت مہا رت تھی آپ ایک بہترین استاذ و مربی ، اور بہترین مناظر تھے،مولانا مرحوم بے شمار خو بیوں اور خصوصیات کے حامل تھے نہایت معتدل المزاج اور محتاط فکر کے حامل تھے،اکابر کا رنگ ان پر چھایا ہوا تھا ،اللہ تعالی ان کی جملہ خدمات کو قبول فر مائے وہ استاذالاساتذہ تھے ان کے بے شمار شاگرد ضلع اور علاقے میں دینی خدمت انجام دے رہے ہیں جو ان کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہے۔
مصیبت کی اس گھڑی میں ہم حضرت مولانا مرحوم کے تمام پسماندگان کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اور دعاء کرتے ہیں کہ مولائے کریم حضرت والا کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے پسماندگان اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ قحط الرجال کے اس دور میںبڑی تیزی سے اکابر علماء کرام دنیا سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں جو امت مسلمہ کے لئے بڑا عظیم سانحہ ہے اللہ تعالی امت مسلمہ پر رحم فر مائے امت کو نعم البدل عطا فرمائے۔انہوںنے صوبے بھر میں واقع جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی تمام یونٹوں کے عہدیداران و اراکین، ذمہ داران مدارس ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ حضرت ؒ مولانا مرحوم کے لئے دعاء مغفرت اورایصال ثواب کا اہتمام کریں۔