مناما : بحرین کے وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی نے لبنان کو خلیجی عرب ممالک سے پیداہونے والے سفارتی تنازعہ کے خاتمے کے لیے ایک نئی شرط پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اس ننھے ملک کو یہ ظاہرکرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اپنے کردارمیں تبدیلی لانے کوتیار ہے۔وزیرخارجہ الزیانی نے منامہ میں منعقدہ سکیورٹی فورم میں ہفتہ کے روزتقریرکرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ایک مرتبہ یہ ظاہر ہوجائے کہ حزب اللہ اپنے طورطریقے کو تبدیل کررہی ہے توہم لبنان کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں اور مستقبل میں (مسائل کا)حل تلاش کرسکتے ہیں۔‘‘لبنان کواس وقت خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بدترین سفارتی بحران کا سامنا ہے۔یہ تنازع لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے یمن میں جاری جنگ کے بارے میں متنازع بیانات سے پیدا ہوا ہے۔انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت پر تنقید کی تھی،ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنا دفاع کررہے ہیں۔ان کے اس بیان کے ردعمل میں سعودی عرب ، بحرین اور کویت نے لبنان کے سفیروں کو اپنے دارالحکومتوں سے بے دخل کردیا تھا اور بیروت سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیاتھا۔حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثرورسوخ پرخلیجی ریاستیں ایک عرصے سے تشویش کا اظہار کررہی ہیں جبکہ وہی روایتی طور پر لبنان کوسب سے زیادہ مالی امداد مہیا کرتی ہیں ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں