خانہ کعبہ کی دیواروں اور باب کعبہ (دروازہِ کعبہ) کو جس کپڑے سے ڈھانپا جاتا ہے اسے غلاف کعبہ یا کسوہ (عربی: كسوة الكعبة) کہتے ہیں۔

ہر سال خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے جسے ریشم کے دھاگوں اور سونے کے تاروں سے بنایا جاتا ہے۔

لیکن خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کب ہوا؟ اسلام سے قبل غلافِ کعبہ کے لیے کون سا کپڑا استعمال کیا جاتا تھا؟

اور موجودہ دور میں اس غلاف کو بنانے کے لیے دھاگے کہاں سے لائے جاتے ہیں؟ ایک دھاگے کو جانچنے کے لیے اسے کتنے مراحل سے گزارا جاتا ہے؟ اور اس پر کتنی لاگت آتی ہے.

غلاف کعبہ کی تیاری کا آغاز کب ہوا اس کے متعلق درست معلومات موجود نہیں ہیں تاہم متعدد تاریخی کتب کے مطابق قبل از اسلام دور میں پہلی مرتبہ یمن کے بادشاہ طوبیٰ الحمیری نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا۔

الحمیری نے مکہ سے واپسی پر ایک موٹے کپڑے کو استعمال کرتے ہوئِے غلاف کعبہ تیار کروایا۔ تاریخی کتب میں اس موٹے کپڑے کو ’کشف‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بعد ازاں اسی بادشاہ نے ’المعافیریہ‘ کپڑے سے غلاف تیار کروایا اور اس مقصد کے لیے یمن کے ایک قدیم شہر میں بننے والا بہترین کپڑا استعمال کیا گیا۔

طوبیٰ الحمیری کے بعد کے ادوار میں غلافِ کعبہ کے لیے مختلف کپڑے استعمال کیے جن میں چمڑے سے لے کر مصر کا قبطی کپڑا تک شامل تھا۔

شاہ عبدالعزیز کے دور میں اس غلاف کی تیاری کے لیے الگ سے ایک محمکہ قائم کیا گیا اور یوں اس مقصد کے لیے کپڑا مکہ میں ہی بننے لگا اور اس کام کے لیے ایک کارخانہ بھی لگایا گیا۔

اس کارخانے میں غلاف کعبہ کی تیاری کے دوران استعمال ہونے والے پانی تک کو پاک کیا جاتا ہے اور غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے ریشم کو اس پاک پانی سے دھویا جاتا ہے۔اس کارخانے میں غلاف کعبہ کو جس ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے قرانی آیات کندہ کی جاتی ہیں۔

غلاف کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ریشم اٹلی جبکہ سونے اور چاندی کی تاریں جرمنی سے آتی ہیں۔

رئاسة شؤون الحرمين کی سرکاری ویب سائٹ پر اس غلاف کی تیاری سے متعلق معلومات دی گئی ہے جن کے مطابق غلافِ کعبہ کو بنانے کے لیے اٹلی سے لائے جانے والے ریشمی دھاگے اعلی معیار کی گریڈ (A5) کے ہوتے ہیں اور ان کی موٹائی تین ملی میٹر ہوتی ہے جو مضبوطی اور لچک کی ضمانت دیتی ہے۔

ایک ریشم کا دھاگہ متعدد ٹیسٹ پاس کرتا ہے جس میں تھریڈ ٹیسٹ سے لے کر موٹائی، مضبوطی، رنگنے، میچنگ، دھوتے ہوئے رنگ اُترنے اور دھات کی تاروں کے ساتھ استعمال تک کے ٹیسٹ شامل ہیں۔

غلاف کعبہ کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے شاہ عبد العزیز کمپلیکس میں ایک تجربہ کار ٹیم ان ٹیسٹوں کی نگرانی کرتی ہے۔

اس غلاف کی تیاری پر لاگت کا تخمینہ لگ بھگ دو کروڑ سعودی ریال ہوتا ہے، یعنی تاریخ کا سب سے مہنگا غلاف

اس علاف کی تیاری کے عمل کی نگرانی 200 سے زیادہ مینوفیکچررز کرتے ہیں جن میں بہترین قابلیت، تجربہ، سائنسی اور عملی قابلیت رکھنے والوں کو مسجدِ بنوی اور خانہ کعبہ کے امور کے لیے ملازمت پر رکھا گیا ہے۔

ریشم کو سیاہ اور سبز رنگوں میں رنگا جاتا ہے اور غلاف کی تیاری کے دوران خصوصی کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

حج کے موقع پر غلاف کعبہ کو تقریباً تین میٹر تک اوپر اٹھا دیا جاتا ہے اور نیچے کی جگہ کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھک دیا جاتا ہے تاکہ کسوہ صاف رہے اور پھٹنے سے محفوظ رہ سکے۔

اسلام میں تمام مسلمانوں کے لیے کعبہ انتہائی مقدس مقام ہے۔ مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 تا 12 تاريخ کو کعبہ کا حج ادا کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس غلاف کو ہر سال حج کے موقع پر نو ذی الحج کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ کعبہ کی تمام دیواروں اور دروازے پر یہ غلاف ڈالا جاتا ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے پرانے غلاف کا کیا جاتا ہے؟ پرانے غلافِ کعبہ کو اُتار کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے اور سعودی عرب کا دورہ کرنے والے مسلمان ملکوں کے رہنماؤں کو بطور تحفہ یہ ٹکڑے پیش کیے جاتے ہیں۔کئی نجی ویب سائٹس بھی انتہائی مہنگے داموں اس غلاف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فروخت کرتی ہیں۔