نئی دہلی، 11 مارچ (یو این آئی)حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نو ودیگر کئی معاملات کے سلسلے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی پر آج سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے حکومت کے رویے پر سخت رخ اپناتے ہوئے 8 ہفتہ کے اندر مرکزی حکومت سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا سپریم کورٹ کے جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس کرشن مراری کی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے کہاکہ یہ آخری موقع دیا جارہاہے اور کئی اسٹیٹ کےوکیل اور سرکاری وکیل مسٹر نٹراجن وغیرہ نے بحث میں کہاکہ بہت سے اسٹیٹ میں الیکشن تھے اور پہلے کووڈ تھا اور ہم کمیٹی بنانے میں لگے ہیں۔

عرضی گزار حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کے وکیل طلحہ عبدالرحمٰن نےعدالت سے بحث کے دوران مطالبہ کیاکہ حج قریب ہونے جارہاہے اس لیے اس پر عدالت کوئی فیصلہ دے ۔واضح رہے کہ جون 2020 سے حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں ہوئی ہے اور بہت سے اسٹیٹ میں بھی حج کمیٹیاں نہیں ہیں مرکزی حج کمیٹی میں اسٹیٹ حج کمیٹی سے نومنتخب نمائندے ملک بھر سے شامل ہوتے ہیں ۔