ممبئی 23 مارچ ( یو این آئی)کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب کے تعلق سے دیئے گئے عدالتی فیصلے کی بے ادبی نہ ہو اور مقامی سطح پر با اثر مسلم افراد مقامی اسکولی انتظامیہ سے بات چیت کر کے کوئی ایسا درمیانہ راستہ نکالیں تاکہ حجاب کاتقدس بھی بر قرار رہے اور مسئلہ بھی حل ہوجائے- ان خیالات کا اظہار معروف قانون داں اور سابق رکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے اخبار نویسیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب کے تعلق سے جو فیصلہ دیا ہے اس میں قرآن شریف کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ قرآن میں اسے لازمی نہیں قرار دیا گیا ہے جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے اور عدالت نے فیصلہ صادر کرنے سے پہلے نا ہی کسی اسلامی اسکالر سے اس ضمن میں معلومات حاصل کی اور نہ ہی کسی مذہبی کتاب کا ٹھوس حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ بالفرض یہ تصور کر لیا جائے کہ مسلم خواتین کو حجاب پہننے کی قرآن مجید میں ہدایت نہیں ہے تب بھی اگر وہ حجاب پہننا چاہیں تو آئین کے مطابق انہیں روکا نہیں جا سکتا نیز بذات خود یہ بڑا سوال ہے اور کسی چیز کا مذہبی طور پر لازمی نہ ہونا انتظامیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس پر پابندی عائد کرے۔

مجید میمن نے کہا کہ ہماری ہندو بہنیں اپنے ماتھے پر بندی لگاتی ہیں جبکہ بندی کا لگانا ہندو مذہب میں لازمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہندو خواتین کی اکثریت اپنی مرضی سے اپنے ماتھے پر بندی لگاتی ہیں اور اسکول میں بھی کئی ہندو طالبات بندو لگا کر جاتی ہیں۔ ایڈوکیٹ میمن نے مزید کہا کہ آئین کی دفعہ ۲۵ کے مطابق ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہبی رسومات کو ادا کرنے کا پورا پورا اختیار ہے لہذا اگر مسلم طالبات حجاب کا استعمال کرتی ہیں تو انہیں با لخصوص بلا کسی وجہ سے روکنا آئین کے خلاف ہے۔اسکول یونیفارم کا تذکرہ کرتے ہوئے مجید میمن نے کہا کہ مسلمان قوم اپنی بچیوں کو یونیفارم کے اصول پر عمل نہ کرنے کی ہدایت ہرگز نہیں دیتی بلکہ یونیفارم کے ساتھ حجاب کا استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ ایک طرح کا پردہ ہے جو حیاء کی ترغیب دیتا ہے ہندو خواتین جس طرح اپنے آنچل سے چہرہ چھپا کر رکھتی ہیں حجاب بھی اسی طرح کا ایک عمل ہے۔