!-- Auto Size ads-1 -->

بقلم __________ محمد ظفر:mdzafarndw92@gmail.com

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حجاب کے معاملے میں سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینے کا پیغام جاری کرکے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک جو معاملہ صرف ایک ریاست کے چند سرکاری اسکول اور کالجز تک محدود تھا، سپریم کورٹ میں اس معاملے کو داخل کرکے اس بات کا موقع فراہم کیا جارہاہے کہ سپریم کورٹ حجاب کے خلاف فیصلہ سنا کر پورے ملک میں اسے نافذ کردے __ افسوس صد افسوس __ بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ کے فیصلے سے ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

موجودہ حکومت تو یہی چاہتی ہے کہ سارے معاملات عدالت میں پیش ہوں کیوں کہ وہاں با آسانی حکومت کی منشا کے مطابق فیصلے ہوجاتے ہیں _ اس تعلق سے ہمیں کسان تحریک کی کامیابی کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے وہ ایک سال تک روڈ پر سراپا احتجاج بنے رہے اور آخرکار انہیں مکمل کامیابی حاصل ہوئی اگر وہ چاہتے تو سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے سکون سے گھر پر بیٹھ جاتے اور کہ دیتے کہ عدالت جو فیصلہ کریگی ہم اسے تسلیم کرلیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا _ لہذا حجاب کا معاملہ جب حد سے تجاوز کرنے لگا تو کرناٹک ہائی کورٹ جانے سے پہلے ہی پرسنل لا بورڈ اور جمیعت علمائے ہند احتجاجاً اس بات کا اعلان کرتے کہ مسلم بچیاں ان اسکولوں اور کالجوں کو خیرآباد کہہ دیں جہاں انہیں پردے کی اجازت نہیں کیوں کہ حجاب کے سلسلے میں خدا اور رسول کی عدالت نے جو فیصلہ کردیا ہے وہ ابدی فیصلہ ہے اور عدالتِ خداوندی کے فیصلے کے موجود ہوتے ہوئے کفارو مشرکین کی عدالت کے سامنے مقدمہ پیش نہیں ہوگا _ اور ساتھ ہی ان بچیوں کا داخلہ ایسے اسکول میں کرانے کی کوشش کی جاتی جہاں وہ باحجاب تعلیم جاری رکھ سکتیں __ اور اس بات کا بھی اعلان ہوتا کہ جمعیت علمائے ہند، مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر بڑی تنظیمیں مل کر پورے ملک میں اسکول اور کالجز قائم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائے گی، اور تنظیموں کے ممبران کو پورے ملک میں فنڈ جمع کرنے کے لیے پھیلا ئے جاییں گے۔ اور اسکول و کالجز کے قیام کے لیے جنگی پیمانے پر کام ہوگا __ یقین جانیے اس اعلان کو سن کر حکومت کے پاؤں تلے زمین کھسکنے لگتی اور وہ فوراً اپنی اوقات میں آجاتے _

لہذا بورڈ و دیگر تنظیموں سے گزارش ہے کہ سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ترک کرکے اسکول و کالجز کے قیام کی طرف پوری توجہ مرکوز کریں اور حجاب کے معاملے کو فی الحال کرناٹک تک ہی محدود رہنے دیں __ مزید یہ کہ متاثرہ گرلس اسٹوڈنٹس کے لیے فنڈ مختص کرکے ان کے لیے متبادل تعلیم گاہ تک رسائی پر غور کریں تاکہ ان کے سال ضایع نا ہوں __ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اگر مرکزی قیادت پوری قوت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو ہندوستانی مسلمان ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایک سال کے اندر سیکڑوں اسکولز اور کالجز قائم ہو جائیں گے۔ جہاں تک عدالت اور ججوں کا تعلق ہے تو ان کے سامنے قرآن اور احادیث پیش کرنا اور بھینس کے آگے بین بجانا برابر ہے۔ وہ جحاب، پردہ اور نقاب کی اصطلاح سے واقف نہیں وہ شریعت کے معاملے میں نرے جاہل ہیں ان سے کیا توقع کرسکتے ہیں کہ وہ شریعت کے احکام کو سمجھ کر اس کے مطابق فیصلہ دیں گے۔ اور وہ بھی اس دور میں جب عدالتیں بھی زعفران زار ہوں۔ ورنہ جج کو شرعی مسئلے سے کیا لینا دینا کیا وہ دستورِ ہند کی دفعہ 25 سے واقف نہیں؟؟ ساری واقفیت ہے لیکن اس کے باوجود من مانا فیصلہ سنانا اس بات کی دلیل ہے کہ عدالتیں بے لگام ہوچکی ہیں۔ ما قبل میں بھی ممبئی ہائی کورٹ میں اس طرح کا ایک مقدمہ پیش ہوا تھا لیکن اس وقت فیصلہ وہی آیا تھا جو دستور کے مطابق تھا۔ مگر اب عدالتیں متعصبانہ ذہنیت کا شکار ہو چکی ہیں مسلم پرسنل لا نے بھی اپنے لیٹر پیڈ میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ لہذا جب پرسنل لا بورڈ خود واقف ہے کہ عدالت میں انصاف نہیں ملتا تو وہاں جانے کا کیا فائدہ؟ حقیقت یہ ہے کہ عدالتیں سیاست کے ماتحت ہوچکی ہیں اور جب آپ کے ساتھ سیاست کھیلی جارہی ہو تو سیاست کا جواب شرافت سے نہیں بلکہ سیاست ہی سے دینا ضروری ہوجاتا ہے۔