’حجاب نے مجھے آزادی دی،ایک یورپی نومسلمہ کی کہانی…

521

حیدرآباد: جرمنی میں اسلام قبول کرنے والے باشندوں کی سرکاری تعداد تیس ہزار اور غیر سرکاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جرمن شہر فرائی بُرگ سے تعلق رکھنے والی ایک نومسلم ڈچ خاتون کے مطابق وہ ’حجاب پہن کر خود کو آزاد محسوس‘ کرتی ہے۔

جرمنی میں قبول اسلام کے موضوع پر فرائی بُرگ سے نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ مقامی آبادی کے کسی نہ کسی مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے اور بعد میں اسلام قبول کر لینے والے جرمن یا دیگر یورپی ملکوں کے شہریوں میں تبدیلی مذہب کے واقعات میں سے ایک کہانی تیس سالہ خاتون مارخولائن خان کامپ کی بھی ہے۔

یہ خاتون پیدائشی طور پر ہالینڈ کی شہری ہے جس نےچند سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔ ایک مسیحی خاندان میں جوان ہونے والی اس مسلم خاتون نے ڈی پی اے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’انجیل پڑھ کر مجھے سمجھ نہیں آتی تھی اور میں خود سے سوال کرتی تھی کہ کیوں ضروری ہے کہ تمام انسان پیدائشی طور پر گنہگار ہوں۔ اور یسوع مسیح خدا کے بیٹے کیوں ہیں؟‘‘

جرمنی میں آباد مسلمانوں کی بڑی اکثریت ترک نژاد ہے

مارخولائن کے والدین مسیحی پروٹسٹنٹ عقیدے کی تعلیمات پر سختی سے عمل کرنے والے انسان ہیں۔ اس خاتون کے مطابق اپنی جوانی کے شروع کے کئی سالوں میں انہوں نے کوشش کی کہ وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب کتابوں اور کلیسائی نمائندے سے گفتگو میں ڈھونڈ سکیں۔ پھر اس خاتون نے ہندو مت اور بدھ مت کا مطالعہ بھی کیا اور ان کے بقول آخر میں وہ اسی نتیجے پر پہنچیں، ’’میں اس پر بھی یقین نہیں کر سکتی۔‘‘

مارخولائن اپنی ایک مسلمان سہیلی کے اصرار پر اکثر اس کے گھر جایا کرتی تھیں۔ ’’ تب میں یہ سوچتی تھی کہ اسلام جرمنی میں تو تارکین وطن کا مذہب ہے۔ اس میں خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ میرے ذہن میں پہلے سے موجود تعصبات ختم ہونے لگے۔‘‘ مارخولائن کہتی ہیں کہ انہیں دلچسپی ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کا بھی مطالعہ کیا۔

اس ڈچ مسلم خاتون نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’قرآن پڑھتے ہوئے مجھے شروع کے دنوں میں ہی جواب مل گیا تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ قرآن کے مطابق تو خدا نے آدم اور حّوا کو معاف کر دیا تھا۔ میںجو جو پوچھتی تھی وہ سب کچھ اسلام میں ہے۔ تب میں نے خود سے سوال کیا کہ اگر میں مسلمان ہوتی، تو کیا ہوتا؟‘‘

 مارخولائن خان کامپ کے مطابق ان کے لیے اسلام قبول کرنا بہت آسان تھا۔ ’’دو گواہوں کے سامنے کلمہ پڑھیں اور آپ مسلمان ہو گئے۔‘‘ فرائی بُرگ کی رہنے والی اس تیس سالہ خاتون کے مطابق مذہب آپ کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ ’’مذہب میں شامل ہونے کے لیے کئی سالوں کی دینی تربیت لازمی تو نہیں۔ بس آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آپ کس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اہم ترین بات یہ ہے کہ آپ ایماندار اور باعزت رویہ اختیار کریں اور اچھائی کی کوشش کریں۔‘‘

مارخولائن، جن کے شوہر ایک پاکستانی مسلمان ہیں، اپنے خاوند کے نام ہی کی وجہ سے مارخولائن خان کامپ کہلاتی ہیں لیکن وہ اپنے شوہر سے پہلی ملاقات سے بھی قبل اسلام قبول کر چکی تھیں۔ اب وہ حجاب پہنتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے بال اب بھی سنہری ہیں، لیکن اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھنا میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ سر پر رومال باندھنے سے مجھے آزادی ملی۔ میں اپنے ڈھکے سر کے ساتھ خود کو حقیقی معنوں میں آزاد محسوس کرتی ہوں۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ مارخولائن کے گھر کا ڈرائنگ روم ایک پرسکون کمرہ ہے، جہاں ادھر ادھر بچوں کے چند کھلونے تو پڑے ہوئے نظر آئیں گے لیکن اگر نماز کا وقت ہو تو یہ مسلم خاتون آپ کو جائے نماز پر ہی دکھائی دے گی۔

فرائی بُرگ کے اسلامی مرکز میں مختلف سماجی امور کے بارے میں مقامی مسلمانوں کی رضاکارانہ طور پر رہنمائی کرنے والے سوشل ورکر رضا بیگاس کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں ہر سال بیس اورتیس کے درمیان ایسے غیر مسلم آتے ہیں، جو اسلام قبول کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی عمریں بالعموم سولہ اور ساٹھ برس کے درمیان ہوتی ہیں اور ان میں مرد بھی ہوتے ہیں اور خواتین بھی۔

جرمن شہر سوئسٹ Soest میں اسلام آرکائیو کہلانے والے مرکزی ادارے کے سربراہ محمد سلیم عبداللہ کہتے ہیں کہ جرمنی میں پیدائشی غیر مسلم لیکن بعد میں اسلام قبول کرنے والے ایسے باشندوں کی سرکاری تعداد تیس ہزار کے قریب ہے، جنہوں نے باقاعدہ طور پر بطور مسلمان اپنا اندراج بھی کرا رکھا ہے۔ ’’غیر سرکاری طور پر یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘

دنیا کے مختلف ملکوں میں جو لوگ اپنی ظاہری اسلام پسندی کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں، ان کا رویہ مارخولائن خان کامپ کے لیے قابل فہم نہیں ہے: ’’ان کی اسلام کے بارے میں سمجھ کہیں نہ کہیں غلط ہو چکی ہے۔ قرآن بےجا تشدد کے خلاف ہے، دہشت گردی کی تو سرے سے ممانعت ہے۔‘‘(بہ شکریہ روزنامہ منصف حیدرآباد)