حجاب تنازعہ کے بعد منگلور یونیورسٹی سے ملحقہ کالجوں سے16 فیصد سے زائد مسلم طالبات نے ٹی سی واپس لی

304

بنگلورو:کرناٹک میں حجاب تنازعہ شروع ہونے کے بعد مسلم طالبات کو اپنے پسندیدہ کالجوں میں پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ کالجوں میں طالبات کے حجاب پہن کر کلاس میں جانے پر پیدا تنازعہ کا اثر ان کی پڑھائی پر صاف دکھائی دینے لگا ہے۔

کئی طالبات نے حجاب کے ساتھ کلاس کرنے کی ضد بھی کی تھی جس پر مئی میں منگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر پی ایس یدپدتھیا نے صاف کہہ دیا تھا کہ جو طالبات بغیر حجاب کے کلاسز نہیں کرنا چاہتیں، انھیں ٹی سی (ٹرانسفر سرٹیفکیٹ) روک دیا جائے گا۔

اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ 16 فیصد سے زائد مسلم طالبات نے منگلور یونیورسٹی سے ملحق سرکاری اور امداد یافتہ کالجوں کے دوسرے، تیسرے، چوتھے و پانچویں سیمسٹر میں اپنا ٹی سی لے لیا ہے۔

اس تعلق سے ’ڈکن ہیرالڈ‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی کنڑ اور اڈوپی اضلاع میں منگلور یونیورسٹی کے سرکاری، امداد یافتہ اور ملحقہ کالجوں میں 21-2020 اور 22-2021 میں مختلف کورسز کے لیے داخلہ لینے والی تقریباً 900 مسلم طالبات میں سے 145 نے ٹی سی لے لیا تھا۔ ان میں سے کچھ نے ان کالجوں میں داخلہ کرایا ہے جہاں حجاب پہن کر کلاس کرنے کی اجازت ہے۔ دیگر طالبات نے فیس کی ادائیگی میں آ رہی پریشانی جیسے اسباب کو دیکھتے ہوئے کالج چھوڑ دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ امداد یافتہ کالجوں (8 فیصد) کے مقابلے میں سرکاری کالجوں (34 فیصد) میں ٹی سی حاصل کرنے والی مسلم طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ جنوبی کنڑ کے سرکاری کالجوں میں اس معاملے میں ڈاکٹر پی دیانند پائی-پی ستیشا پائی گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج سب سے اوپر ہے۔ یہاں 51 مسلم طالبات میں سے 35 نے اپنا ٹی سی لے لیا ہے۔

جنوبی کنڑ اور اڈوپی اضلاع میں 39 سرکاری، 36 امداد یافتہ کالجز ہیں۔ حجاب تنازعہ کے مرکز رہے اجرکاڈ میں گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج میں 9 طالبات نے اپنا ٹی سی حاصل کر لیا ہے۔ حالانکہ آر ٹی آئی سے حاصل جانکاری کے مطابق کوڈاگو ضلع میں سبھی 113 مسلم طالبات نے اپنے پرانے کالجوں میں پڑھنا جاری رکھا ہے۔ کوڈاگو ضلع میں منگلور یونیورسٹی کے 10 سرکاری، امداد یافتہ اور ملحقہ کالجز ہیں۔