حجاب تنازعہ: سپریم کورٹ نے سماعت 16 ستمبر تک مکمل کرنے کا دیا اشارہ

کرناٹک حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے ملا 2 دن کا وقت

205

نئی دہلی :12/ ستمبر(ایجنسیز) سپریم کورٹ میں آج ایک بار پھر حجاب تنازعہ پر مسلم فریق کی طرف سے دلائل پیش کیے گئے۔ پیر کے روز جسٹس ہیمنت گپتا نے اشارہ دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعہ عائد کی گئی پابندی کے خلاف داخل عرضی پر جاری سماعت 16 ستمبر تک پوری کی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے وکلاء سے 14 ستمبر تک دلیل مکمل کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

آج ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت سے بھی اس معاملے میں اپنی بات رکھنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ 14 ستمبر تک سبھی جانکاریاں حاصل کرنے اور دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ فیصلے سے متعلق اپنا رجحان تیار کرے گا۔ گویا کہ 16 ستمبر تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ صادر ہو سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعرات (8 ستمبر) کو سپریم کورٹ نے کرناٹک حجاب پابندی معاملے میں عرضی دہندگان سے مسلمانوں اور سکھوں کی رسموں کا موازنہ نہ کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ مذہب کی رسموں کا موازنہ کرنا بہت مناسب نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ وہ ملک کی ثقافت میں اچھی طرح سے گھل مل گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی ہٹانے سے انکار کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج پیش کرنے والی کئی عرضیوں پر مشترکہ سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ مذہب میں پانچ ’ک‘ (کیش، کڑا، کنگھا، کچھا، کرپان) پوری طرح سے لازم ہیں۔

جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے اس معاملے میں ایک عرضی دہندہ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کے ذریعہ سکھ مذہب اور پگڑی کی مثال دیئے جانے کے بعد یہ تبصرہ کیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ سکھ مذہب کے حقوق یا رسموں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آئین کے شق 25 کا حوالہ دیا اور کہا تھا کہ یہ سکھوں کی طرف سے ’کرپان‘ لے جانے کی سہولت دیتا ہے۔دراصل عرضی دہندگان میں سے ایک کی طرف سے پیش سینئر وکیل دیودَت کامت نے بنچ کو بتایا تھا کہ کرناٹک حکومت نے کہا ہے کہ اگر طالبات سر پر دوپٹہ پہن کر آئیں گی تو دیگر لوگ ناراض ہوں گے، لیکن یہ اس پر پابندی لگانے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سر پر دوپٹہ پہننا شق 19 اور 21 میں موجود بنیادی حقوق کا حصہ ہونے کے علاوہ مذہبی اعتقاد کا بھی ایک حصہ ہے۔ کامت نے کچھ وکلا کی پیشانی پر لگائے جانے والے نشان ’نمام‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہندو مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے، لیکن اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا تھا کہ یہ عدالت میں ڈسپلن کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟ کیا یہ عوامی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے؟