حجاب تنازعہ: آج سپریم کورٹ میں اکبر سے لے کر اورنگ زیب تک کی مثال پیش کی گئی

639

نئی دہلی:کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر عائد کی پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر آج ایک بار پھر سماعت ہوئی اور عرضی گزار کے وکیل کی طرف سے کئی طرح کے دلائل پیش کیے گئے۔

آج سماعت کے دوران وکیل دشینت دَوے نے اپنی بات رکھتے ہوئے ہندوستان کے مسلم حکمرانوں اکبر سے لے کر اورنگ زیب تک کی مثال پیش کی، اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کے لیے حجاب کتنا اہم ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھ سرکردہ بی جے پی لیڈروں کی ہندو بیویوں کا بھی تذکرہ کیا۔

سماعت کے دوران دُشینت دَوے نے بغیر کسی کا نام لیے ملک کے موجودہ حالات پر بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آج لوگ گاندھی کو بھول جائیں اور صرف سردار پٹیل کے بارے میں بات کریں۔‘‘ انھوں نے حجاب کو امریکہ میں سفید اور سیاہ فام تنازعہ سے بھی جوڑا۔ ان دلائل کو سننے کے بعد سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت کل یعنی 20 ستمبر کی صبح 11 بجے پھر سے کیے جانے کا اعلان کیا۔

اپنی بات کو مضبوطی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے دُشینت دَوے نے کہا کہ ’’یہ اُس لباس کے بارے میں نہیں ہے، ہم فوجی اسکولوں یا نازی اسکولوں کے ریجمنٹ کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم یہاں پری-یونیورسٹی کالجوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’آئین کھلے پن اور آزادی کی بات کرتا ہے، جب کہ حکومتیں پابندی کی۔ یہاں بات صرف برابری کی ہی نہیں، بلکہ ساتھ زندگی گزارنے پر بھی ظاہر کیے جانے والے اعتراضات پر ہے۔‘‘

عرضی دہندہ کے وکیل نے اپنی بات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندو-مسلم لڑکا-لڑکی شادی کر کے ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہیں تو اس پر بھی لوگوں کو دقت ہے۔ بی جے پی کے کئی سینئر لیڈروں کی شریک حیات ہندو ہیں۔ مشہور موسیقار استاد امجد علی خان کی بیوی ہندو ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر کی بیوی ہندو تھیں، تب اکبر نے ہندو رانیوں اور ان کی سہیلیوں کو محل میں مندر بنانے اور پوجا کرنے کی سہولت اور آزادی بھی دی تھی۔ دُشینت دَوے نے دلیل دی کہ ’’ہمارا ملک ایک خوبصورت ثقافت پر مبنی ہے۔ یہ ملک روایتوں سے بنا ہے اور 5000 سال میں ہم نے کئی مذاہب اختیار کیے ہیں۔ دنیا بھر کے مورخین نے کہا ہے– ہندوستان وہ جگہ ہے، جو لوگ یہاں آئے، ان کو قبول کیا گیا ہے۔ ہندوستان نے ہندو، بودھ، جیب مذہب کو جنم دیا۔ اسلام یہاں آیا اور ہم نے اپنا لیا۔ ہندوستان ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں انگریزوں کو چھوڑ کر یہاں آئے لوگ بغیر کسی فتح کے یہاں بس گئے۔‘‘

دَوے نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ بھی کہا کہ حجاب پر پابندی ویسی ہی ہے جیسے امریکہ میں سیاہ (کالے رنگ والے) طلبا کے لیے الگ بس کا قانون تھا، اور سفید (گوروں) کے لیے الگ۔ جنوبی افریقہ میں بھی کبھی فرنگی راج میں ہندوستانیوں اور دیگر سیاہ فام لوگوں کے لیے ٹرین میں الگ کمپارٹمنٹ اور سفید فام کے لیے الگ تھے۔ دُشینت دوے نے مزید کہا کہ اگر کسی ہندو کو مسلم سے شادی کرنے لیے مجسٹریٹ سے اجازت لینی پڑے تو یہ تنوع میں اتحاد کیسے ہوگا؟ آپ محبت کو کیسے باندھ سکتے ہیں؟

دَوے نے اپنی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اکبر رواداری رکھتا تھا تو اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اورنگ زیب نے کیا کچھ کیا۔ بے شک وہ غلط تھا۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، لیکن کیا ہم اس کے جیسا ہی بننا چاہتے ہیں؟ آئین بنانے والوں نے کبھی پگڑی کی بات نہیں کی، صرف کرپان کی باتا کی کیونکہ اسلحہ ساتھ رکھنا بنیادی حق نہیں تھا۔ ہم نے حجاب پہن کر کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی ہے، حجاب ہماری شناخت ہے۔ عرضی دہندہ کے وکیل نے کہا کہ مثالی حالات وہ ہوں گے جب ایک ہندو لڑکی مسلم لڑکی سے سوال کرے کہ آپ نے حجاب کیوں پہنا ہے، اور وہ اپنے مذہب کے بارے میں بتائے۔ یہ واقعی اچھی بات ہوگی۔ دَوے نے کہا کہ یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ آج لوگ گاندھی کو بھول جائیں، صرف سردار پٹیل کے بارے میں بات کریں، لیکن سردار بہت ہی سیکولر انسان تھے۔