ممبئی 21؍فروری (یو این آئی )ممبئی سے قریب کلیان نامی مقام پر واقع ۷۰۰؍سالہ پرانی مشہور صوفی حاجی عبدالرحمان ملنگ شاہ ؒ عرف حاجی ملنگ بابا کی درگاہ کے سالانہ عرس کی تقاریب میں شرانگیزی برداشت نہیں کی جائے گی اور فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اس قسم کا مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر کانگریس کے کارگذار صدر و سابق وزیر محمد عارف نسیم خا ن نے تھانہ کے پولیس کمشنر سمیت دیگر سرکاری عہدیداران سے ذاتی طور پر گفتگو کے دوران کیا ۔


عرس کی تقاریب کو لیکر درگاہ کے ٹرسٹی شوکت علی انصاری اور حاجی ملنگ بابا کے عقیدت مندوں کے ایک وفدنے آج یہاں نسیم خان سے ملاقات کی اور انہیں بتلایا کہ حاجی ملنگ درگاہ کا سالانہ عرس 22؍فروری سے 2؍مارچ کے درمیان منایا جانے والا ہے لیکن کورونا وائرس وبا ٔ کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے درگاہ ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ کسی بھی قسم کی ایسی تقریب منعقد نہ کی جائے جس میں زائرین کا مجمع اکٹھا ہو اسے دیکھتے ہوئے درگاہ ٹرسٹ نے زائرین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے گھروں پر رہ کر نذرونذرانہ کر دیں لیکن درگاہ پر حاضری کیلئے حاجی ملنگ کا رخ بالکل بھی نہ کریں ۔


شوکت انصاری نے بتلایا کہ انتظامیہ نے حکم امتاعی بھی نافذ کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ درگاہ ٹرسٹ نے روایت کے مطابق عرس کی تقاریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مقامی بجرنگ دل ، ہندو منچ اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ عرس کی تقاریب میں شرکت کریں گے اور وہاں جا کر آرتی اور پوجا بھی کریں گے ۔ان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ حکم امتناعی کے باوجود بھی وہ تقاریب میں اپنے طور سے شریک ہوں گے ۔


نسیم خان کو بتلایا گیا کہ فرقہ پرست عناصر اس موقع پر دل آزار نعرے بھی لگاتے ہیں جس میں ’’ملنگ گڑھ لا مکتی دیا ‘‘ (ملنگ گڑھ کو آزادی دلاؤ ) وغیرہ شامل ہے ۔کانگریس کارگذار صدر نے اس موقع پر تھانہ کے پولیس کمشنر دتاترے پڑسالگیکر ، نگراں وزیر ایکناتھ شندے ، ریاستی وزیر داخلہ ستیج پاٹل اور دیگر سرکاری افسران و عہدیداران سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور مطالبہ کیا کہ فرقہ پرست تنظیموں کے شررانگیز اعلان سے نقص امن میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اور ہندو مسلم تناو ٔ بڑھ سکتا ہے لہذا ان عناصر پر فوری طور پر کارروائی کی جائے جس پر حکام نے یقین دلایا کہ نظم و نسق کی صورت حال کو خراب کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا ۔واضح رہے کہ حاجی ملنگ درگاہ سطح زمین سے قریبا ً ڈھائی ہزار فٹ اونچائی پر واقع ہے اور پہاڑوں پر واقع اس درگاہ میں ہندو مسلم تمام زائرین عقیدت سے جاتے ہیں