ڈیزل 68 روپئے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔ ایس بی آئی کے ماہر معاشیات کی رپورٹ

نئی دہلی : پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر عوامی شعبوں کی جانب سے احتجاج کے درمیان امکان غالب ہے کہ حکومت پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی پر غور کرسکتی ہے۔ کئی گوشوں نے اکسائز ڈیوٹی میں کمی پر زور دیا ہے تاکہ پٹرول صارفین کو بڑی راحت حاصل ہوسکے۔

گزشتہ سال کورونا وائرس کی وباء کے باعث گھروں میں بند رہنے والے ہندوستانی عوام کو جب لاک ڈاؤن سے راحت ملی اور اپنی روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے کام پر جانے لگے تو اِن پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ ڈالا گیا۔ ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گزشتہ 9 ماہ کے دوران آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی شرحوں میں کمی کے باوجود ہندوستان میں پٹرول 100 روپئے فی لیٹر سے زائد کی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ تاہم ایس بی آئی کے ماہر معاشیات کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر پٹرولیم اشیاء کو گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تحت لایا جائے تو پٹرول کی قیمت گھٹ کر فی لیٹر 75 روپئے ہوجائے گی اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 68 روپئے ہوگی۔

اِس وقت دہلی میں پٹرول فی لیٹر 91.17 روپئے اور ڈیزل فی لیٹر 81.94 روپئے میں دستیاب ہورہا ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے بعض علاقوں میں پٹرول 100 روپئے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ اِن دونوں ریاستوں میں ملک میں عائد ہونے والا ایندھن پر ویاٹ سب سے زیادہ ہے۔ ایس بی آئی کے اکنامسٹ نے بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جاسکتی ہے اگر اِن اشیاء کو جی ایس ٹی کے تحت لایا جائے تو پٹرول اور ڈیزل سستا ہوگا۔ عالمی خام تیل کی قیمت فی بیارل 60 ڈالر ہے جو زرمبادلہ کے تحت فی ڈالر 73 روپئے ہے۔ اُنھوں نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ جی ایس ٹی کے تحت اگر پٹرول اور ڈیزل کو لایا جائے تو قیمتیں کم ہوں گی اور عوام کو بہت بڑی راحت ہوگی۔

فی الحال پٹرول کی قیمت پر ٹیکس 60 فیصد لیا جارہا ہے اور ڈیزل پر 54 فیصد سنٹرل ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ پٹرولیم اشیاء پر سیلز ٹیکس یا ویاٹ مرکز اور ریاستی حکومتوں دونوں کے لئے ٹیکس کے ذریعہ مالیہ وصول کرنے کا اہم وسیلہ ہے۔ جی ایس ٹی کے تحت لایا جائے تو کئی ریاستوں کا مالیہ متاثر ہوسکتا ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، ٹاملناڈو، آندھراپردیش اور کرناٹک کے بشمول دیگر ریاستوں کو حاصل ہونے والے مالیہ میں کمی آئے گی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں