جہیز لوں گا نہیں بلکہ دوں گا… باپ بیٹے کے شادی کے لیے جائیدادیں جہیز میں دینے پر کیوں مجبور ہوگیا؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

والدین کے لیے ان کے بچوں کی شادی ایک بہت اہم موقع ہوتا ہے جس کی خواہش بچوں کی پیدائش کے ساتھ ہی ان کے دل میں روشن ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام کے مضبوط ہونے کے سبب بچے جوان ہو کر والدین کی خواہشات کی تکمیل کے لیے شادی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں-

لیکن پڑوسی ملک چین کے اندر جہاں پہلے ہی ایک گھرانہ ایک بچہ کے اصول نے وہاں کے خاندانی نظام کو بہت کمزور کر دیا ہے- اب وہاں کی نئی نسل شادی کو اضافی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس سے گریز کر رہی ہے- جس وجہ سے ہر خاندان میں ایک ہی بچہ ہوتا ہے جو جوان ہو کر جب شادی سے انکار کر دیتا ہے تو پچھلی نسل کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اس طریقے سے ان کا نام ہی ختم ہو جائے گا-

نئی نسل کو شادی کے لیے راغب کرنے کے حربے
یہی وجہ ہے کہ پرانی نسل اپنی نئی نسل کو شادی کی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں- جن میں پیار محبت کے ساتھ ساتھ زور زبردستی یہاں تک کہ خودکشی کی دھمکی بھی شامل ہے-

میچ میکر کارنر

مگر حال ہی میں ایک باپ نے اپنے بیٹے کی شادی کروانے کا انوکھا طریقہ نکالا جو کہ آج کل چین کے سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے-

اپنی بیس جائیدادیں شادی کے لیے دینے کا اعلان
چینی خبر رسان ایجنسی جیمو نیوز کے مطابق چین کے صوبے ہیبائی سے تعلق رکھنے والے ایک بیٹے کے باپ نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب کہ ایک میچ میکر کارنر میں اپنے 24 سالہ بیٹے کے لیے رشتے ڈھونڈتے ہوئے ایک پریشان حال باپ اپنے ہمراہ ایک گلابی رنگ کا تھیلا لے کر آگیا جو کہ جائيداد کے کاغذات سے بھرا ہوا تھا- جس میں اس باپ کا (جس کی شناخت خبر رسان ایجنسی نے ظاہر نہیں کی )کہنا تھا کہ اس تھیلے میں اس کی 20 کمرشل جائیداد کے کاغذات ہیں جو وہ اپنے بیٹے کے نام اور اس لڑکی کے نام مشترکہ طور پر کر دے گا جب وہ شادی کر لیں گے-

اس باپ کے اس عمل نے چین میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے جس کے مطابق اس آدمی کا یہ عمل کیا لڑکیوں کو اس کے بیٹے کی طرف راغب کرنے کا ایک طریقہ ہے تو اس طرح سے تو لڑکیاں امیر لڑکوں سے ہی شادی کے لیے ہاں کریں گی اور شادی ایک کاروبار بن جائے گی-

جب کہ دوسری طرف کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس باپ کا یہ عمل اپنے بیٹے کو بھی شادی کے لیے لالچ دینے کے مترادف ہے اور یہ عمل بھی کسی طرح بھی خوشگوار ازدواجی زندگی کی ضمانت نہیں ہو سکتا ہے-

چین کی صورتحال اور ہمارے لیے سبق
چین جو کہ اس وقت دنیا میں سپر پاور کے طور پر جانا جاتا ہے اس وقت تیزی سے کم ہوتی ہوئی مین پاور کا شکار ہے کیوں کہ ان کی اگلی نسل شادی اور بچے پیدا کرنے پر یقین نہین رکھتی ہے- چین کے تجزیہ نگاروں کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے سو سالوں میں جب کہ چین دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کامیابی کو انجوائے کرنے کے لیے ان کے پاس چینی قوم نہ ہونے کے برابر ہو گی جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے-

اور چین کے ساتھ ایسا صرف کمزور خاندانی نظام کے سبب ہوا ہے یہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے جو افراد خاندانی نظام اور شخصی آزادی کے حق میں بڑے بڑے دعویٰ کرتے نظر اتے ہیں لیکن اس کے منفی اثرات کو بھی ذہن میں رکھیں جس کا سامنا اس وقت چین جیسے ملک کو کرنا پڑ رہا ہے-