جہانگیر پوری میں ہو رہے مظالم پر کیجریوال کی خاموشی سے مسلمانوں میں مایوسی، عآپ کو ووٹ دینے پر افسوس

نئی دہلی:(ایجنسیز) دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے قومی راجدھانی کے شمال مغربی علاقے جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ تشدد شروع ہونے کے بعد سے ہی پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اب لوگ ہندوتوا کے اس اقدام پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔حالانکہ کیجریوال نے تشدد کے دن 16 اپریل کو ایک ٹویٹ کر کے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی لیکن بی جے پی کے زیر انتظام ایم سی ڈی اور دہلی پولیس کی سرپرستی میں ایک طبقہ پر کی گئی کارروائی پر کچھ نہیں کہا۔ جہانگیرپوری کے لوگ ان کی اس خاموشی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کے روز جب ایم سی ڈی لوگوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلا رہی تھی تو جہانگیر پوری میں نہ تو دہلی حکومت کا کوئی وزیر اور نہ ہی کوئی ایم ایل اے موجود تھا۔ عآپ کے ترجمان صرف میڈیا میں بیان دیتے نظر آئے۔ ایسا ہی رویہ عام آدمی پارٹی نے شاہین باغ میں سی اے ای، این آر سی کے خلاف چل رہے احتجاج کے دوران اختیار کیا تھا۔ جن لوگوں نے اسمبلی انتخابات میں کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا ہے وہ اب خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔

جہانگیر پوری کے سی بلاک میں رہنے والے ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ انہیں آج اس بات کا ملال ہے کہ انہوں نے کیجریوال اور عآپ کو ووٹ دیا۔ سی بلاک میں ہی 16 اپریل کو اس وقت تشدد ہوا تھا جب ہنومان جینتی جلوس کو مسجد کے سامنے روکا گیا اور نعرے لگائے گئے اور پھر ہجوم نے پتھراؤ شروع کر دیا تھا۔اس علاقے سے عآپ کے ایم ایل اے اجیش یادو، جنہیں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں نے الیکشن میں ووٹ دیا تھا، لاپتہ ہیں اور لوگوں نے انہیں بھگوڑا تک کہنا شروع کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اجیش یادو پراسرار طور پر پارٹی کے کام کے لیے بہار گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ کیجریوال کرناٹک میں ووٹ مانگ رہے ہیں۔ جہانگیر پوری کے ایک نوجوان نے کہا، ’’کیجریوال کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لیے وقت ہے لیکن ہمارے لیے نہیں۔ آخر وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے؟‘‘اسی علاقے میں رہنے والے اعجاز پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اس سے بہتر تو کانگریس کا دور تھا جب ہر کوئی امن سے رہتا تھا۔‘‘ جہانگیر پوری میں بہار، بنگال اور دیگر علاقوں کے لوگ کئی دہائیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔گلی نمبر ایک میں رہنے والے عمران اور ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کے سابق ایم ایل اے دیویندر یادو نے ہمیشہ ان کی مدد کی ہے۔ دیویندر یادو 2008 سے 2013 اور 2013 سے 2015 تک یہاں سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔

عمران کہتے ہیں، ’’ہم لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا تھا جو عآپ کو ووٹ دیا۔ کیجریوال کا چہرہ دیکھ کر ووٹ نہیں دینا چاہیے تھا۔‘‘اسی علاقے میں ایک تین منزلہ مکان کے گراؤنڈ فلور پر ارشاد رہتے ہیں، ان کی عمارت کی اوپر کی دو منزلوں پر ہندو خاندان رہتے ہیں۔ ارشاد کا تعلق بہار سے ہے۔ ارشاد نے بتایا کہ بھلے ہی مذہب کے نام پر ہندو اور مسلمان تقسیم ہو چکے ہیں لیکن غربت میں سب ساتھ ہیں۔ ارشاد نے کہا، ’’میرا روم پارٹنر ایک ہندو ہے۔ وہ مذہبی قسم کا لڑکا ہے۔ ہم مل کر کھانا پکاتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ وہ ساون میں پیاز لہسن نہیں کھاتا۔ میں اس کے لیے کھانا بناتا ہوں۔ وہ رمضان میں میرے لیے افطاری تیار کرتا ہے۔ ہمارے درمیان مذہب کبھی نہیں آیا۔”

ارشاد نے کہا کہ اس کے زیادہ تر دوست ہندو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہندو زیادہ مذہبی ہو گئے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ کب سے تو اس نے کہا ’جب سے مودی جی وزیر اعظم بنے ہیں!‘ کیجریوال کے بارے میں ارشاد کا کہنا ہے کہ ’’ان پر بھی اب مسلم کمیونٹی کی نظر میں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، "کیجریوال نے سی اے اے این آر سی پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ 2020 کے فسادات پر وہ خاموش رہے۔ ان کی خاموشی کی قیمت عمر خالد جیسے نوجوان ادا کر رہے ہیں۔‘‘علاقے میں موبائل کی دکان چلانے والے ریاض کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، "عآپ کے تئیں ہمارا رویہ اب بدل رہا ہے۔ لوگ مجھے عآپیا کہہ کر چڑھاتے ہیں۔ میں نے کیجریوال کو پارٹی بنانے کے وقت چندہ بھی دیا تھا لیکن اب میری رائے بدل گئی ہے۔ ریاض کا مزید کہنا ہے کہ ’’لوگ اب کیجریوال کو چھوٹا مودی کہہ کر پکارنے لگے ہیں، پہلے مجھے ان پر غصہ آتا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘جہانگیر پوری میں رہنے والے تمام لوگوں نے اعتراف کیا کہ عام آدمی پارٹی کو ایک ایسی پارٹی کے طور پر قبول کیا گیا تھا جو لوگوں کی حفاظت کرے گی اور انہیں ہندوتوا سے بچا کر تعلیم اور صحت فراہم کرے گی لیکن ’’اس پورے معاملے پر عآپ کے رویے نے بڑی تکلیف دی ہے۔‘‘اس دوران بھلے ہی کیجریوال نے ٹویٹ کر دیا ہو اور آتشی مارلینا نے بی جے پی پر غصہ نکالا ہو لیکن اب جہانگیر پوری کے لوگوں کا اعتماد کیجریوال اور عآپ سے ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔