• 425
    Shares

تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور
موبائل نمبر *9386379632*
مشیت ا لٰہی ہے کہ ہر زمانے میں نبیوں کو مبعوث فر مایا۔ دعوتِ توحید ورسالت کے بعد حق وصداقت کا اعلان بھی کرایا، رب ذ والجلالِ والاکرام سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش و کرسی کا مالک ِحقیقی ہے۔
اِعلان خداوندی ہے: وَعْدَ اللّہِ حَقّاً وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ قِیْلاً۔ترجمہ: اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے؟۔ (قرآن،سورہ نساء:4 آ یت 122) قرآن مجید میں سچائی کا ذکر160 جگہوں پر آیا ہے۔

سچائی انسان کے اندر بہت سی خوبیوں کے جِلا(صفائی، نیکیوں کا ذخیرہ، آب وتاب، چمک) کا سبب بنتی ہے۔ سچائی ہی ایسی نعمت ہے جو انسانوں کو گمراہیوں سے روک کر بہت سی برائیوں سے معاشرے کو پاک رکھتی ہے سچ بہت بڑاعمل ہے۔
رب تعالیٰ ارشاد فر ما رہا ہے: اللّہُ لا إِلَ ہَ إِلاَّ ہُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ حَدِیْثاً۔تر جمہ: اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ کس کی بات سچی یعنی اس سے زیادہ سچاکوئی نہیں اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کا جھوٹ بولنا ناممکن و محال ہے کیونکہ جھوٹ عیب ہے اور ہر عیب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے محال(ناممکن، ناقابل عمل) وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔(القر آن،سورہ نساء4: آیت 87)

سچائی بہت بڑی نعمت ہے اسی لئے حق سبحانہٗ تعالیٰ کے نزدیک سچے لوگوں کا اعلیٰ رتبہ ہے۔ہما رارب سچا، ہمارے نبی سچے جن کو ساری دنیا صادق الوعد الامین کے نام سے جانتی ہے،ہمارا قر آن جو کلامِ الٰہی ہے وہ سچا ہے۔ ایمان والے سچے،اللہ کے متقی پر ہیز گار بندے سچے، اور ان سچوں کے ساتھ رہنے والے سچے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَکُونُواْ مَعَ الصَّادِقِیْنَ۔تر جمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔(القر آن،سورہ توبہ:9 آیت119)
*جھوٹ اور سچ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں:*
جھوٹ بے اصل،واقعہ کے خلاف بولنا، جھوٹ کا پتلا،بہت جھوٹ بولنے والا وغیرہ وغیرہ،قر آن مجید میں جھوٹ کا ذکر اورمذمت91جگہوں پرآیا ہے جھوٹ بولنے پر سخت عذاب اور وعید آئی ہے۔قرآن مجید میں جابجا واضح احکام موجود ہے:

فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّہُ مَرَضاً وَلَہُم عَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ۔تر جمہ: ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری میں اضافہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے درد ناک عذاب ہے۔
جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جھوٹ سے بچے، یہ بیماری(جھوٹ بولنے کی) ہر زمانے اور ہر قوم میں پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید،احادیث طیبہ وسیرت رسول ﷺ میں جھوٹ کے خلاف بہت سخت احکام پائے جاتے ہیں۔ دوسر ے مذاہب میں تو جھوٹ کو عیب نہیں سمجھا جاتا ہے جیسے کہ بڑی ذات کے کسی شخص نے جھوٹ بولا تو وہ قا بل معافی ہے، لیکن کسی چھوٹی ذات کا شخص بولے تو وہ قابل مواخذہ ہے۔ مذہب اسلام میں بڑے چھوٹے کے امتیاز کے بغیر جھوٹا شخص قابل مواخذہ ہے۔سیرت رسول ﷺ ہمارے لیے مشعل راہ role model ہے، آپ ﷺ کی زندگی ساری دنیا کے لیے مثالی شخصیت ہے۔

*محمد رسول اللہ صادق الوعد الامین:*

مخبر صادق ﷺ ظاہری اعلان نبوت سے پہلے ہی صادق الوعدا لامین کے لقب سے جانے جاتے تھے اور یہ لقب اُن لوگوں نے دیا تھا جو ابھی آپ پر ایمان نہیں لائے تھے۔رحمتِ عالم ﷺ کے مزار اقدس کی جالیوں میں جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے: اللّٰہ لاا لہ الا اللّٰہ الملک الحق المبین محمد محمد رسولُ اللّٰہ صادق الوعد الامین۔ آپ ﷺ کی سچائی امانت داری کی وجہ سے ہی مشرکین مکہ نے "معاہدہ عبداللہ بن جد عان ” کے لیے آ پ کی سر پرستی قبول کی تھی۔ بڑے اور دبنگ لوگ ظلم و زیادتی کا بازار گرم کئے رہتے، اس کے خاتمے کی کوشش آپ ﷺ نے فر مائی اور لوگوں کو” عبداللہ بن جدعان تیمی کے گھر” جمع فر ما یا کیونکہ وہ سن وشرف میں ممتاز تھا۔ اور آپس میں عہدو پیمانagreementکیا گیا کہ مکہ میں جوبھی مظلوم نظر آئے گا،خواہ وہ مکے کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، ہم سب اس کی مدد اور حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اسے اس کا حق دلواکر رہیں گے۔ اس اجتماع میں رسول کریم ﷺ بھی تشریف فر ماتھے۔ یہ معاہدہ دور جہالت میں ہوا تھا۔ آپ ﷺ اعلانِ نبوت کے بعد بھی فر مایا کرتے تھے، ”میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سُرخ اونٹ بھی پسند نہیں ہیں اور اگر(دورِ) اسلام میں بھی مجھے اس عہدو پیمان کے لئے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا۔“ (حدیث بیہیقی شریف) رسول اللہ ﷺ نا صرف اسے پسند فر ماتے،بلکہ اعلان نبوت کے بعد بھی اس پر عمل فر مایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی معاہدہ انسانیت کے مطابق ہوتو اس پر ہر حال میں عمل کیا جانا چاہئے خواہ اس معاہدہ کا آغاز غیر مسلم حکمرانوں کی جانب سے ہی کیا گیا ہو۔جھوٹ،مکرو فریب، ظلم وزیادتی اُس زمانہ میں بھی تھے اور آج اگر یہ کہا جائے کہ اُس زمانہ سے کہیں زیادہ ہے تو شاید بیجا نہ ہو گا۔

*جھوٹ فن یا گناہ،فیصلہ کون کرے؟:*

جھوٹ ایک کریہہ گناہ ہے،جھوٹ بولنے والے کو لوگ گِری نگا ہوں سے دیکھتے ہیں، لیکن آج جھوٹ نے ART.،ہنر،آرٹ،استادی،گُن،ڈھنگ،کاریگری، کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔
؎ نامراد انِ محبت کو حقارت سے نہ دیکھ ٭ یہ بڑے لوگ ہیں، جینے کا ہنر جانتے ہیں
جھوٹ تو جھوٹ ہے اس میں اچھائی اور بھلائی کہاں؟ سچے انسان کے لیے” جھوٹ "میں کوئی اچھا مقصد ہو سکتا ہے، لیکن جھوٹے انسان کا "سچ "بھی صرف آگ لگانے کے لئے ہوتا ہے۔ جیسے آج کل عام ہوگیا ہے اور اب تو جھوٹ کو بُرا ہی نہیں سمجھا جاتا ہے کیا کوئی بُرائی،یا گناہ اگر عام ہوجائے،پھیل جائے توکیا وہ بُرا نہیں مانا جائے گا؟ یا وہ گناہ کی فہرست سے نکال دیا جائے گا؟ استغفرا للہ استغفر اللہ۔اسلام میں کوئی بھی گناہ کو برا کہا گیا بلکہ اس کی مذمت قر آن واحادیث میں بھی آئی ہے۔ جھوٹ بولنے پر دل کی بیماری بڑھتے ہی جاتی ہے،یعنی اس کے جھوٹ میں بڑھوتری ہوتی رہتی ہے اوروہ ذرہ برابر جھوٹ بولنے میں شرم، عار محسوس نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم ﷺ نے فر مایا:”سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ آدمی برابر سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتا ہے۔ اور برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔(مسلم حدیث: 105۔2607) جھوٹ چھوڑنے پر انعام۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی رحمت ﷺ نے فر مایا: ”جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور جھوٹ باطل ہے(یعنی جھوٹ چھوڑنے کی ہی چیز ہے) اس کے لئے جنت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا۔(تر مذی حدیث:3400/2000۔

*جھوٹ جانتے ہوئے منہ بند رکھنا، مصلحت یا خوفِ خدا سے دوری؟:*

آج سیاست ہو،عوامی زندگی ہو، یہاں تک کی خواص بھی جھوٹ کے عادی ہوگئے(دوچار کو چھوڑ کر الا ماشا اللہ) جھوٹ بولنے والے سمجھتے ہیں کہ جھوٹ ہی سے ترقی ملے گی شاید؟ بقول شاعر
*؎ جھوٹ بولنے والے کہیں سے کہیں بڑ ھ گئے* ٭ *اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا*-
وسیم بریلوی
یا لوگ منہ اس لیے بند رکھتے ہیں

*؎ بولوں اگر میں جھوٹ تو مر جائے گا ضمیر* ٭ *کہدوں اگر میں سچ تو مجھے مار دیں گے لوگ*

لوگ جو بھی سوچیں سچ اور حق یہی ہے، جھوٹ بولنے والا کبھی فلاح نہیں پاتا خواہ کتنا ہی بڑا انسان ہو جھوٹ ہی اسے لے ڈوبتا ہے۔ جھوٹ دین دنیا دونوں بر باد کرتا ہے،ہمارے معاشرے میں خاص کر سیاست میں جھوٹ جھوٹ جھوٹ اتنا جھوٹ کی شیطان نے اب جھوٹ بولنا بند کردیا ہے اپنا کام نیتاؤں کے سپر د کردیا ہے۔ اخبارات،ٹی وی، سوشل میڈیا وغیرہ وغیرہ سب میں دولت کی ریل پیل سے سچ کودبانے کا کام ہو رہا ہے،غریبوں کی آہیں،سسکیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔محلہ،گاؤں،شہر پورے ملک میں بغیر آکسیجن oxygen لاکھوں لوگ مر گئے سچ کو دباکر جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ آکسیجن کی کمی سے کوئی مرا ہی نہیں توبہ توبہ۔بی بی سی 1 مئی 2021 رپورٹ پڑھیں اور بھی میڈیا پڑھیں سمجھ میں بات آجائے گی۔ گھروں میں جھوٹ عام بات ہوگئی ہے جس سے بچے جھوٹ کے سایہ میں پل رہے ہیں،شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے سے جھوٹ بول رہے ہیں، اس کی نحوست سے بات طلاق تک پہنچ رہی ہے، علمائے کرام،اسٹیجی علما کا تو کیا کہنا زیادہ تر بُرا حال ہے ایسا نہیں کہ سچ بولنے والے ہے ہی نہیں؟ لیکن حالات خراب ہی ہیں کچھ کو چھوڑ کر الا ماشا للہ۔ کتاب وسنت و رسول اللہ ﷺ کی سیرت پاک میں جھوٹ کی بہت سختی سے جھوٹ کی مذمت کی گئی ہے اور سچائی کی اہمیت وفضیلت کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَّعْنَۃَ اللّہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن۔ترجمہ: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔(القر آن،سورہ آلِ عمران3:آیت61) بہت سی جگہوں پر جھوٹ کی برائی مذمت آئی ہے، جھوٹی گواہی دینے کی سخت انداز میں عذاب کی وعید رب تعالیٰ نے فر مائی: وَالَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَاماً۔
ترجمہ: اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تو اپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔(سو رہ فر قان،25: آیت72)۔
پیسے لیکر جھوٹی گواہی دینا عام بات ہوگئی ہے یا اپنوں کو بچانے کے لیے بھی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی نہ دینا اور جھوٹ بولنے سے تعلق نہ رکھنا ان کی مجلس سے دور رہنا اُن سے میل جول نہ رکھنا کامل ایما ن والوں کی خوبی ونشانی ہے۔(تفسیر مدارک، ص:811) جھوٹی گواہی دینا انتہائی مذموم عادت ہے، احا دیث کثیرہ میں اس کی شدید مذمت ہے: حضرت عبدا للہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عَنْہُماَ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا: ”جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہیں پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔(ابن ماجہ،کتاب الاحکام،باب شہادۃالزور،3/123،حدیث:2373) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرور دوعالم ﷺ نے ارشاد فر مایا: ”کوئی شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیر وی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی نا خوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔(سنن الکبری للبیہقی حدیث: 11444)

*سچائی ہی حق ہے سچائی کے دامن کو مضبوطی سے پکڑیں:*

ہم سب کو چاہیے سچائی پر چلیں جھوٹ کا سہارا نہ لیں،مصلحت کوشی سے منہ بند نہ رکھیں جھوٹو ں کی بھڑ دیکھ کر نہ ڈریں بقول شاعر
؎ جھوٹ کے آگے پیچھے دریا چلتے ہیں ٭ سچ بو لا تو پیاسا مارا جائے گا۔(وسیم برلوی)
سچ بولیں،سچ اور حق کا ساتھ دیں سچوں کے ساتھ رہنے کی تلقین قرآن نے جابجا فر مائی ہے،جھوٹ کے عذاب سے ڈرا یا ہے۔ سچائی میں برکت ہے اس کی اہمیت قرآن میں کئی جگہ ہے سورہ احزاب کی آیت 24 اور 70-71 میں ہے:
یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَن یُطِعْ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً۔ تر جمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فر ماں برداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
سچ بولیں یاد رکھیں سچ کبھی مرتا نہیں جھوٹ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا۔ اللہ ہم سب کو سچ بولنے جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین:۔
حافظ محمد ہاشم قادری گ ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ 831020, رابطہ-
09386379632, hhmhashim786@gmail.com

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔