جھارکھنڈ الیکشن Live: جھارکھنڈ میں بی جے پی کو شدید جھٹکا، ہیمنت کا وزیر اعلیٰ بننا یقینی

0 0

جھارکھنڈ میں بی جے پی کو لگا شدیدجھٹکا ،ہیمنت کا وزیر اعلیٰ بننا یقینی

رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب میں بھارتیہ جنتاپارٹی ( بی جے پی) کو شدید جھٹکا لگا ہے وہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے ہیمنت سورین کی قیادت میں مہا گٹھ بندھن کی حکومت بننا یقینی ہے۔

اسمبلی کی 81 سیٹوں کے اب تک کے اعلان کردہ نتائج اور رجحانات میں جے ایم ایم 29 اور اس کی حلیف کانگریس 15 اور راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) 01 سیٹ کے ساتھ حکومت بنانے کے جادوئی آنکڑے 41 کو پار کرگئی ہے ۔ وہیں بی جے پی کو 26 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں ۔ جھارکھنڈ ویکاس مورچہ ( جے وی ایم ) 03 ، آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین ( آجسو) 03 اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی ( این سی پی ) 01 ،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسوادی ۔ لینن وادی ایک اور آزاد امیدوار دوسیٹوں پر آگے ہیں۔

وزیر اعلیٰ رگھور داس انتخاب ہارتے نظرآرہے ہیں۔ مسٹر داس بی جے پی کے باغی امیدوار سریو رائے سے 1058 ووٹوں کے فرق سے پیچھے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمن گیلوا چکردھر پور میںجے ایم ایم کے سکھرام اڑاﺅں سے 12160 ووٹوںسے اور اسمبلی اسپیکر دنیش اڑاﺅں سسئی اسمبلی حلقہ میں جے ایم ایم کے جیگا سوشرن ہورو سے 36848 ووٹوں سے پیچھے ہیں۔

رگھور داس نے جھارکھنڈ میں پارٹی کی کارکردگی کو نجی شکست بتایا

رانچی: جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ رگھور داس نے جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب میں پارٹی کے مظاہرہ کو اپنی نجی شکست بتایا اور کہا کہ عوام کا مینڈیٹ قبول ہے۔ رگھوور داس نے آج یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی پارٹی نے گزشتہ پانچ سال میں ریاست کے گاﺅں ۔ گاﺅں تک ترقیاتی کام کیے ہیں۔ عوام کے مینڈیٹ کی عزت کرتے ہوئے ان کے شکر گزار ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کی نہیں بلکہ ان کی شکست ہے۔ حالانکہ جب تک پورے نتائج نہیں آجاتے ہیں تب تک امید برقرار ہے۔ انہوں نے جمشید پور مشرقی سیٹ پر اپنے ممکنہ شکست سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی تین راﺅنڈ اور قریب ایک لاکھ ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ وہ آسانی سے کامیاب ہوجائیں گے۔

اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے کے خاکہ طے کریں گے: ہیمنت سورین

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں جیت سے کافی خوش جے ایم ایم لیڈر ہیمنت سورین نے کہا کہ میرے لئے آج عہد لینے کا دن ہے، میرا عہد لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنے والا ہے، میں سونیا گاندھی، لالو یادو اور تمام کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خاص کر ان لوگوں کا جنہوں نے مجھ پر یقین جتایا۔

میں آخری نتائج کا انتظار کر رہا ہوں: رگھوور غلام

جھارکھنڈ کے وزیر اعلی اور جمشید پور سے بی جے پی امیدوار رگھوور داس نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ نتائج ہمارے حق میں ہوں گے، میں آخری نتائج کا انتظار کر رہا ہوں، بی جے پی عوام کے مینڈیٹ کو قبول کرے گی۔


رجحانات میں کانگریس اتحاد 49 سیٹوں کے ساتھ آگے، بی جے پی کو زبردست جھٹکا

جھارکھنڈ میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، کانگریس اتحاد کو رجحانات میں اکثریت مل گئی ہے، کانگریس اتحاد 49 سیٹوں پر آگے چل رہا ہے، وہیں، بی جے پی 22 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔

رجحانات میں کانگریس اتحاد 44 سیٹوں کے ساتھ آگے، بی جے پی میں بڑھی بے چینی

جھارکھنڈ میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، کانگریس اتحاد کو رجحانات میں اکثریت مل گئی ہے، کانگریس اتحاد 44 سیٹوں پر آگے چل رہا ہے، وہیں، بی جے پی 26 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔

جے ایم ایم کے ہیمنت سورین برهینٹ سے آگے، دمکا سے پھر ہوئے پیچھے

جے ایم ایم کے ہیمنت سورین برهینٹ سے 9948 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں، وہیں دمکا سے 461 ووٹوں پیچھے ہو گئے ہیں۔


بی جے پی میں جانے کی کوئی گنجائش نہیں: سریو رائے

بی جے پی کے باغی رہنما سریو رائے جمشید پور ایسٹ سیٹ سے کافی ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں، یہاں سے الیکشن لڑ رہے بی جے پی امیدوار اور وزیر اعلیٰ رگھوور داس کو سریو رائے نے پیچھے چھوڑ دیا ہے، سریو رائے نے یہ صاف کر دیا ہے کہ وہ بی جے پی میں نہیں جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ریاست میں جو بھی حکومت بنے گی اور وہ ریاستی مفاد میں ہوگی تو میں اس کی حمایت کروں گا۔

جمشید پور مشرق سے سابق وزیر اعلی رگھوور داس پیچھے، سریو رائے نے 2600 ووٹوں سے بڑھت بنائی


برہیٹ کے بعد ہیمنت نے دمکا میں بھی بی جے پی امیدوار کو پچھاڑا

رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کی جاری گنتی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے امیدوار ہیمنت سورین نے برہیٹ کے بعد اب دمکا میں بھی اپنے نزدیکی حریف بھارتیہ جنتاپارٹی کےامیدوار اور سماجی فلاح و بہبود کے وزیر ڈاکٹر لوئس مرانڈی پر 2463 ووٹوں سے سبقت بنا لی ہے۔

ریاستی الیکشن دفتر کے مطابق، ریاست کی 81 سیٹوں کے لئے جاری ووٹوں کی گنتی کے شروعاتی مرحلے میں سورین دمکا سیٹ پر بی جے پی کے ڈاکٹر مرانڈی سے 6329 ووٹوں سے پیچھے چل رہے تھے لیکن ابھی موصول رپورٹ کے مطابق انہوں نے بی جے پی کے امیدوار پر 2463 ووٹوں سے سبقت بنا لی ہے۔ دوسری سمت سورین برہیٹ میں بھی سبقت بنائے ہوئے ہیں۔ وہ بی جے پی امیدوار سمون مالٹو سے 8616 ووٹوں کے فرق سے آگے چل رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2014کے اسمبلی الیکشن میں بھی سورین نے دمکا اور برہیٹ سیٹ سے الیکشن لڑا تھا لیکن جہاں وہ برہیٹ سے جیتے وہیں دمکا سے ہار گئے تھے۔ اس الیکشن میں بھی سورین کو بی جے پی امیدوار ڈاکٹر لوئس مرانڈی نے 4914 ووٹ کے فرق سے ہرا دیا تھا۔

رجحانات میں کانگریس اتحاد کو اکثریت، رانچی میں کانگریس کارکنان کا جشن شروع


جے ایم ایم کے ہیمنت سورین برهینٹ اور دمکا دونوں سیٹ پر آگے

جے ایم ام کے ہیمنت سورین برهینٹ اور دمکا دونوں سیٹ سے آگے چل رہے ہیں، دمکا سے 2463 اور برهینٹ سے 8616 سیٹوں سے ہیمنت سورین آگے چل رہے ہیں۔


ہمیں یقین تھا کہ جھارکھنڈ ہمارے اتحاد کو واضح اکثریت دے گا: کانگریس لیڈر آر پی این سنگھ

کانگریس لیڈر آر پی این سنگھ نے کہا، ’’ہمیں یقین تھا کہ جھارکھنڈ ہمارے اتحاد کو واضح اکثریت دے گا، رجحانات اچھے ہیں، لیکن میں آخری نتائج تک تبصرہ نہیں کروں گا، ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہیمنت سورین ہمارے اتحاد کے سی ایم امیدوار ہوں گے‘‘۔


رجحانات میں بی جے پی کو پچھڑتا دیکھ سی ایم رگھوور داس بولے، ابھی نتائج آنے باقی


جھارکھنڈ میں عظیم اتحاد 41 اور بی جے پی 29 سیٹوں پر آگے

رانچی: جھارکھنڈ میں 81 سیٹوں کے لئے آج سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان جاری ووٹوں کی گنتی میں 81 سیٹوں کے آئے رجحان میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی قیادت والے عظیم اتحاد نے 41 سیٹوں پر سبقت بنالی ہے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) 29سیٹوں پر ہی آگے ہیں۔

جمشیدپور مشرقی سیٹ سے رگھوور داس 1107 ووٹ سے آگے چل رہے ہیں

تازہ ترین رجحانات کے مطابق جمشیدپور مشرقی سیٹ سے رگھوور داس 1107 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں، وہیں، دمکا میں ہیمنت سورین بی جے پی کے لوئیس مرانڈی سے پیچھے چل رہے ہیں۔

برہیٹ میں ہیمنت سورین 1672ووٹوں سے آگے، دمکا میں 6329 ووٹوں سے پیچھے

رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کی جاری گنتی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے امیدوار ہیمنت سورین برہیٹ میں اپنے نزدیکی حریف بھارتیہ جنتاپارٹی کے سمون مالٹو سے جہاں 1672ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں وہیں دمکا میں وہ بی جے پی کے لوئن مرانڈی سے 6329 ووٹوں سے پیچھے ہیں۔

ریاستی الیکشن دفتر کے مطابق، ریاست کی 81 سیٹوں کے لئے جاری ووٹوں کی گنتی کے شروعاتی مرحلے میں سورین کو برہیٹ سیٹ پر 6698 ووٹ حال ہوئے ہیں وہیں ان کے نزدیکی حریف بی جے پی کےسمون مالٹو کو 5026 ووٹ ملے ہیں۔ حالانکہ سورین دمکا سیٹ پر بی جے پی کے ڈاکٹر مرانڈی سے 6329 ووٹوں سے پیچھے چل رہے ہیں۔ دمکا میں ڈاکٹر مرانڈی کو جہاں 13977 ووٹ ملے وہیں سورین کو5620 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2014 کے اسمبلی الیکشن میں بھی سورین نے دمکا اور برہیٹ سیٹ سے الیکشن لڑا تھا لیکن جہاں وہ برہیٹ سے جیتے وہیں دمکا سے ہار گئے تھے۔ اس الیکشن میں بھی سورین کو بی جے پی امیدوار ڈاکٹر لوئس مرانڈی نے 4914 ووٹ کے فرق سے ہرا دیا تھا۔

کانگریس اتحاد کو 43 سیٹوں پر سبقت حاصل


جھارکھنڈ میں مهاگٹھ بندھن کی یکطرفہ ہوگی جیت… تیجسوی یادو

رجحانات میں کانگریس اتحاد کو اکثریت حاصل کرنے کے بعد آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا۔ ’’اس انتخاب میں مهاگٹھ بندھن کی یکطرفہ جیت ہوگی، ہم نے ہیمنت سورین کی قیادت میں انتخاب لڑا ہے، وہ وزیر اعلی بننے جا رہے ہیں‘‘۔


بابو لال مرانڈی دھنوار سیٹ پر 2841 سیٹوں سے آگے چل رہے ہیں

سابق وزیر اعلی اور جے وی ایم (پی) کے بابو لال مرانڈی، سی پی آئی (ایم ایل) کے راج کمار یادو سے 2841 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔

کانگریس اتحاد کو 42 سیٹوں پر بڑھت

جھارکھنڈ کی 81 نشستوں پر گنتی جاری ہے۔ ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ کانگریس کا اتحاد 40 سیٹوں پر آگے چل رہا ہے۔ اسی کے ساتھ بی جے پی 29 سیٹوں پر برتری حاص کیے ہوئے ہے

جھارکھنڈ میں سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ووٹوں کی گنتی شروع

رانچی: جھارکھنڈ میں اسمبلی کی کل 81 سیٹوں کے لئے آج سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان صبح آٹھ بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی۔ ریاستی الیکشن دفتر کے ذرائع نے یہاں بتایا کہ سبھی ضلع ہیڈکوارٹروں میں کل 82 ہال میں آج صبح آٹھ بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے لئے کل 1478 ٹیبل لگائے گئے ہیں۔ ہٹیا اسمبلی حلقے میں ووٹوں کی گنتی کے لئے سب سے کم 14 ٹیبل جبکہ سرائے کیلا سیٹ کے لئے سب سے زیادہ 26 ٹیبل لگائے گئے ہیں۔

پہلے سروس کی گنتی ہوگی اور اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ووٹوں کی گنتی کی جائےگی۔ گنتی شروع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد نو بجے سے رجحان آنے شروع ہوجائیں گے۔ دوپہر ایک بجے پہلا اور شام سات بجے آخری نتیجہ آنے کی امید ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-