جگر کے کینسر کی پیشاب سے تشخیص کیسے؟

348

سائنس دانوں نے ایک ایسا میٹابولائٹ دریافت کیا ہے جو ممالیہ جانوروں میں پہلے کبھی نہیں پایا گیا تھا جس سے پہلی بار پیشاب ٹیسٹ کے ذریعے جگر کے کینسر کا پتہ لگانے میں مدد مل سکے گی۔

فی الحال کینسر کی کسی بھی قسم کی تشخیص کے لیے پیشاب کا کوئی حتمی ٹیسٹ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ زیادہ تر مریضوں میں سرطان کی تشخیص سرجری، الٹراساؤنڈ یا خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے جس کے لیے عام طور پر ہسپتال جانے یا سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن گلاسگو میں قائم کینسر ریسرچ یو کے بیٹسن انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے چوہوں میں میٹابولائٹ دریافت کیا ہے جس کے بعد اب جگر کے کینسر کی بیٹا کیٹنین کی تبدیل شدہ شکل کا پتہ لگانے کے لیے پیشاب کا ایک نیا ٹیسٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔

پراجیکٹ کی قیادت کرنے والے محقق سیویریو ٹارڈیٹو نے کہا کہ مستقبل میں جگر کے کینسر میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافے کی توقع ہے اور اس کا پہلے سے پتہ لگانے اور علاج کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول: ’ہم اس نئے میٹابولائٹ کو دریافت کرنے کے بعد بہت پرجوش ہیں جو ممالیہ جانوروں میں اس سے پہلے کبھی نہیں پایا گیا تھا۔ یہ تشخیصی جانچ کے لیے ایک اچھا ذریعہ ہے کیونکہ یہ جگر کے کینسر کی ایک خاص قسم کے لیے ہی مخصوص ہے جس کا پیشاب میں آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے ٹیومر کی نشوونما پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

اس ممکنہ ٹیسٹ کو سائنس دانوں کی ٹیم نے دریافت کیا جو گلوٹامین سنتھیٹیز نامی جگر کے کینسر میں پائی جانے والی ایک پروٹین کی تلاش کر رہی تھی۔

چوہوں میں جگر کے عام ٹشوز میں اس انزائم کا مطالعہ کرتے ہوئے ٹیم نے ایک نیا میٹابولائٹ دریافت کیا جس کی شناخت میمل جانوروں میں پہلے کبھی نہیں کی گئی تھی۔
یہ چوہوں میں مخصوص قسم کے جگر کے ٹیومر کے ساتھ منسلک تھا اور ٹیومر بڑھنے کے ساتھ ہی اس کی سطح بھی بڑھ گئی۔

گلاسگو کی ٹیم، جس نے N5-methylglutamine نامی میٹابولائٹ دریافت کیا، نے یہ بھی دکھایا کہ یہ پیشاب میں اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ٹیومر کو فروغ دینے والا میوٹیشن بیٹا کیٹنین جین موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے کینسر کی اس مخصوص قسم کے مریضوں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ٹارڈیٹو نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم مزید مطالعات کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جگر کے کینسر میں میٹابولائٹ کتنی جلدی ظاہر ہوتا ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہو سکتی ہے کہ پیشاب کے ٹیسٹ سے کتنی جلدی بیماری کی قابل بھروسہ تشخیص ہو سکتی ہے۔‘

برطانیہ میں ہر سال جگر کے کینسر کے تقریباً چھ ہزار 200 نئے کیسز سامنے آتے ہیں جن میں سے تقریباً 610 مریضوں کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہوتا ہے۔

سکاٹ لینڈ کی شمالی سرحد کے پار جگر کے کینسر کی شرح برطانیہ بھر کی اوسط سے زیادہ ہے اور جگر کے کینسر کے تقریباً ایک چوتھائی مریضوں میں یہ بیماری بیٹا کیٹنین کی تبدیل شدہ شکل ہے۔

جگر کے کینسر کی تشخیص اکثر تاخیر سے ہوتی ہے اور بہت سے مریضوں میں اس کی تشخیص صرف اس وقت ہوتی ہے جب پہلے سے موجود جگر کے امراض جیسے سیروسس یا فیٹی لیور کی بیماری کا علاج ہو رہا ہو۔

لیکن ابتدا میں اور پھیلنے سے پہلے ٹیسٹنگ اس بیماری کو پکڑنے میں مدد دے سکتی ہے اور موجودہ علاج میں بہتری اور نئے علاج کی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔