‘جو مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کر رہے ہیں وہ خانہ جنگی شروع کرنا چاہتے ہیں’

0 21

معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔

بالی وڈ اداکار نصیر الدین شاہ نے یہ بات معروف صحافی کرن تھاپر کے ساتھ ‘دی وائر’ کے لیے ایک انٹرویو کے دوران کہی ہے۔ اس پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

تین سال قبل بھی نصیرالدین شاہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ’زہر پورے ملک میں پھیل چکا ہے اور اس کے جلد قابو میں آنے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں‘۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپیل کی تھی کہ وہ ’موجودہ ماحول سے خوف نہ کھائیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں‘۔

کرن تھاپر کے ساتھ تازہ انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے حال ہی میں ہندوؤں کے مقدس شہر ہریدوار میں منعقد ہونے والے دھرم سنسد (مذہبی اجتماع) میں جو مسلمان مخالف بیان دیے گئے اس بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔

ہریدوار میں 17 سے 19 دسمبر کے دوران منعقد ہونے والے دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق بیانات پر نصیر الدین شاہ نے کہا: ‘اگر انھیں پتا ہے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں، تو میں حیران ہوں۔ وہ ایک خانہ جنگی کی اپیل کر رہے ہیں۔ ہم میں سے 20 کروڑ لوگ اتنی آسانی سے فنا ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم 20 کروڑ لوگ لڑیں گے۔

‘یہ ہمارے 20 کروڑ لوگوں کے لیے مادر وطن ہے۔ ہم 20 کروڑ لوگ یہیں کے ہیں۔ ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے خاندان اور کئی نسلیں یہیں رہیں اور اسی مٹی میں مل گئیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسی مہم شروع ہوئی تو سخت مزاحمت ہوگی اور لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑے گا۔’

نصیر الدین شاہ نے کہا کہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے۔
‘یہ مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے لیکن مسلمان ہار نہیں مانیں گے۔ مسلمانوں کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ہمیں اپنا گھر بچانا ہے، ہمیں اپنے مادر وطن کو بچانا ہے، ہمیں اپنے خاندان کو بچانا ہے، ہمیں اپنے بچوں کو بچانا ہے۔ میں مذہب کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ مذہب تو بہت آسانی سے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔’

نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ’مسلمانوں کو حاشیے پر لانے کی کوششیں اوپر یعنی ’اعلی سطح سے کی جارہی ہیں‘۔

انھوں نے کہا ‘یہ مسلمانوں کو غیر محفوظ محسوس کرانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یہ اوپر سے کیا جا رہا ہے۔ حکمران جماعت کے لیے علیحدگی پسندی، پالیسی بن چکی ہے۔ میں یہ جاننے کے لیے متجسس تھا کہ جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسایا، ان کا کیا ہو گا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔ بہرحال یہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ اس کے ساتھ بھی کچھ نہیں ہوا جس کے بیٹے نے کسانوں کو کچل دیا تھا۔’
نصیر الدین شاہ نے کہا کہ وہ حکومت کے رویے پر حیران نہیں ہیں۔ ‘یقینی طور پر یہ پوری طرح حیران کن نہیں ہے۔ یہ مایوس کن ہے لیکن کم و بیش یہ وہی ہے جس کی ہمیں توقع تھی۔ لیکن جس طرح سے چیزیں سامنے آ رہی ہیں وہ ہمارے اندیشوں سے بھی بدتر ہیں۔ ایسی اشتعال انگیزیوں پر ہمارا رہنما خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔’

نصیر الدین شاہ اپنے بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ نصیرالدین شاہ نے اس سے قبل بالی وڈ کی خاموشی پر بھی بات کی تھی اور بعض فلم سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی نظریات کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ بالی وڈ کے تینوں خان (عامر، سلمان اور شاہ رخ) کی خاموشی پر کہا تھا کہ وہ اس لیے خاموش ہیں کیونکہ انھیں ہراساں کیے جانے کا خوف ہے۔

نصیر الدین شاہ کے حالیہ انٹرویو کے بعد اسی قسم کی بات سوشوون چودھری نامی ایک صارف نے کی ہے اور لکھا ہے کہ ‘کیا سلمان خان، شاہ رخ خان، عامر خان اور ان جیسے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندوتوا دہشت گردی پر ان کی خاموشی انڈیا کو خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو انھیں کم از کم نصیر الدین شاہ کو سننا چاہیے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ وہ بالی وڈ میں اپنے قد میں کوئی کم نہیں۔’
،تصویر کا ذریعہ
Twitter

اس سے قبل نصیر الدین شاہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت میں واپسی پر انڈیا کے بعض مسلمان طبقوں کی جانب سے مبینہ طور پر خوشی منائے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بہر حال سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ نصیر الدین شاہ کے حامی نظر آ رہے ہیں جبکہ بعض لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سندر نامی ایک صارف نے دی وائر کے لنک کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ‘ہم انڈینز کو اپنے اقدام پر نظر رکھنی چاہیے۔ بعض غلط قدم ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کیا ہمارے رہنما ہماری صحیح سمت میں رہنمائی کر رہے ہیں؟’
،تصویر کا ذریعہ
Twitter

سرکازم نامی ایک ٹوئٹر صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ارے نہیں۔۔۔ خانہ جنگی جیسا فقرہ مسلمان نصیر الدین شاہ کی زبان سے نکلا ہے۔ اب انھیں گرفتار کیا جائے گا اور ہندو اعلی ذات کی اکثریت والی عدالت انھیں ضمانت پر رہا نہیں ہونے دے گی۔’
نمیتا نامی ایک صارف نے لکھا کہ انھوں نے ‘نصیرالدین شاہ کا انٹرویو دیکھا، ان کے غصے کو محسوس کیا کہ جس میں بغیر لڑے ہار نہ ماننے کا جذبہ تھا۔ سنہ 2014 سے قبل ہم انھیں صرف بطور شاندار اداکار/باکمال شخصیت کے طور پر جانتے تھے۔ کہاں سے کہاں آ گئے ہم۔’
اس کے جواب میں ہرمٹ پین نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘یہ درست ہے۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ نصیرالدین شاہ یا انوپم کھیر کا مذہب کیا ہے۔ کہاں سے کہاں آ گئے ہم۔’
،تصویر کا ذریعہ
Twitter

اسی طرح ایک صارف نے نصیر الدین شاہ پر الزام لگایا کہ جب کشمیر میں ہندوؤں کو مارا جا رہا تھا تو وہ خاموش تھے۔ واضح رہے کہ انوپم کھیر کشمیر کے ہندو پنڈتوں پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس سے از خود نوٹس کی اپیل

اسی طرح ڈاکٹر شری رام اپا نامی ایک صارف نے اس خبر کے ساتھ عدالت عظمی کے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہوئے لکھا: ‘علاج سے بہتر قبل از وقت تحفظ ہے۔ صرف سپریم کورٹ ہی از خود نوٹس کے ذریعے خانہ جنگی کو روک سکتی ہے۔ مودی کے حامی/ آر ایس ایس اور دائیں بازو والے ملک میں فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں۔۔۔ عوام خطرے میں ہے۔’

رواں ہفتے کی ابتدا میں انڈین سپریم کورٹ کے کئی وکلا نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔ وکلا نے ہریدوار کے علاوہ دلی میں منعقدہ پروگرام کے خلاف بھی از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ وکلا نے کہا ہے کہ ان دونوں پروگراموں کی ویڈیوز پبلک ہیں اور ان میں نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

اس خط پر کل 76 افراد نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ صرف تقریر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک برادری کے لوگوں کو مارنے کی کھلی اپیل کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس سے نہ صرف ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو خطرہ ہے بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
اس خط میں وکلا نے کہا ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف پہلے بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس لیے اب فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں دشینت دوے، پرشانت بھوشن، سلمان خورشید، راجو رام چندرن، پی وی سریندرناتھ، شالنی گیرا اور نین تارا رائے شامل ہیں۔