جوشی مٹھ میں شیولنگ بھی ٹوٹا، مٹھ میں شگاف، شیومندر دھنسنے سے ہر طرف خوف کا منظر

949

جوشی مٹھ میں زمین دھنسنے کے واقعات کو دیکھ کر ہر کوئی خوف زدہ ہے۔ پورا شہر برباد ہو رہا ہے۔ زمیں دوز ہو رہے اس شہر کو اب بچا پانا مشکل سا معلوم پڑ رہا ہے۔ حالانکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔دوسری طرف آدی گرو شنکراچاریہ مٹھ کی جگہ بھی زمین دھنسنے کے واقعہ کا شکار ہونے لگی ہے۔ مٹھ کی جگہ میں موجود شیو مندر تقریباً 6 انچ دھنس گیا ہے اور یہاں رکھے شیولنگ میں شگاف پڑ گیا ہے۔

مندر کے جیوترمٹھ کا مادھو آشرم وغیرہ شنکراچاریہ نے بسایا تھا۔ یہاں ملک بھر سے طلبا ویدک تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس وقت بھی 60 طلبا یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دراصل آدی گرو شنکراچاریہ مٹھ کی جگہ کے اندر ہی شیو مندر ہے۔ اس مندر میں کئی لوگوں کی عقیدت ہے۔ 2000 میں شیولنگ جئے پور سے لا کر قائم کیا گیا تھا۔اتنا ہی نہیں، عقیدے کے مطابق شنکراچاریہ نے آج سے 2500 سال قبل جس کلپ درخت کے نیچے غار کے اندر بیٹھ کر علم حاصل کی تھا، آج اس کلپ درخت کا وجود مٹنے کے دہانے پر ہے۔

اس کے علاوہ احاطہ کی عمارتوں، لکشمی نارائن مندر کے آس پاس بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ جیوترمٹھ کے انچارج برہمچاری مکند آنند نے بتایا کہ مٹھ کے داخلی دروازے، لکشمی نارائن مندر اور جلسہ گاہ میں شگاف پڑ گئے ہیں۔ اسی احاطے میں ٹوٹکاچاریہ غار، تریپور سندری راج راجیشوری مندر اور جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ کی گدی والی جگہ ہے۔

مندر کے پجاری وشسٹھ برہمچاری نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تقریباً 13-12 ماہ سے یہاں دھیرے دھیرے دراڑیں آ رہی تھیں۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ حالات یہاں تک پہنچ جائیں گے۔ پہلے دراڑوں کو سیمنٹ لگا کر روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن گزشتہ سات آٹھ دن میں حالات مزید بگڑنے لگے ہیں۔ مندر تقریباً 6 سے 7 انچ نیچے کی طرف دھنس چکا ہے۔ دیواروں کے درمیان بھی فاصلہ بن گیا ہے۔

مندروں میں موجود شیو لنگ بھی دھنس رہا ہے۔ پہلے اس پر چاند کے سائز کا نشان تھا جو اب اچانک بڑھ گیا ہے۔ علاوہ ازیں نرسنگھ مندر احاطہ میں بھی فرش دھنس رہا ہے۔ مٹھ بھون میں بھی دیواروں میں شگاف دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ فرش 2017 میں ڈالا گیا تھا، جس کی ٹائلیں بیٹھنے لگی ہیں۔