جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی پر تیار بی بی سی کی دستاویزی فلم کی اسکریننگ، بجلی کی خرابی اور طلبا پر پتھراؤ

676

(بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی رپورٹ)انڈیا کے دارالحکومت دلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں چند طلبا پر اس وقت پتھراؤ کیا گیا جب وہ حال ہی میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی پر بنائی جانے والی بی بی سی کی دستاویزی فلم کی سکریننگ کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔یاد رہے کہ انڈیا کی وزارت خارجہ وزیر اعظم نریندر مودی پر نشر کی گئی بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ’پراپیگنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے۔

’انڈیا: دی مودی کویسچن‘ نامی اس دستاویزی فلم میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مودی بطور وزیر اعلیٰ 2002 کے گجرات فسادات کو روکنے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں ناکام کیوں ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد متاثرہ طلبا نے یونیورسٹی کے گیٹ تک مارچ کیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان پر پتھراؤ کرنے والے کون تھے۔اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں کوئی طالب علم زخمی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ جے این یو سٹوڈنٹس یونین کی جانب سے ایک دن قبل اعلان کیا گیا تھا کہ اس دستاویزی فلم کی سکریننگ رات کو نو بجے نرمدا ہاسٹل کے قریب یونین کے دفتر میں کی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دستاویزی فلم کی سکریننگ سے آدھا گھنٹا قبل ہی پورے یونیورسٹی کیمپس کی بجلی چلی گئی۔ طلباء کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے جان بوجھ کر بجلی منقطع کی تاہم جے این یو انتظامیہ کی جانب سے اس دعوے پر جواب سامنے نہیں آ سکا۔
لیپ ٹاپ پر فلم دیکھنے کی کوشش
بجلی منقطع ہونے کے بعد تقریبا 300 طلبا نے یونین کے دفتر کے باہر قالین بچھا کر کیو آر کوڈ کی مدد سے اپنے اپنے فون پر ڈاکیومنٹری دیکھنے کی کوشش کی لیکن انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے انھیں کافی مشکل پیش آئی۔

اس کے بعد بہت سے طلبا اپنے اپنے کمروں سے لیپ ٹاپ لے کر آئے اور چھوٹے گروپوں میں ڈاکومنٹری دیکھنا شروع کر دی تاہم انٹرنیٹ کی رفتار کا مسئلہ درپیش رہا۔
جے این یو سٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی حکومت سکریننگ کو روک سکتی ہے لیکن عوام کو یہ فلم دیکھنے سے نہیں روک سکتی۔‘

واضح رہے کہ انڈیا کی حکومت نے یوٹیوب اور ٹوئٹر کو ہدایت کی تھی کہ وہ بی بی سی کی دستاویزی فلم کے لنکس کو ہٹا دیں۔

اس اعلان کے بعد ہی جے این یو طلبا یونین نے اس دستاویزی فلم کو دکھانے کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور کیرالہ کے چند کیمپس میں طلبا نے اس دستاویزی فلم کی سکریننگ کی ہے، جب کہ کئی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی طلبا یونین نے فلم دکھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
دو قسطوں کی دستاویزی فلم
بی بی سی کی مودی سے متعلق دستاویزی فلم کے دو حصے ہیں جن میں سے ایک 17 جنوری کو ریلیز ہوا جبکہ اس کی دوسری قسط 24 جنوری کو نشر کی جائے گی۔

اس کا خلاصہ کچھ یوں کیا گیا ہے کہ ’نریندر مودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رہنما ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنھیں دو بار انڈیا کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا اور انھیں اپنی نسل کے سب سے طاقتور سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘

’مغرب انھیں ایشیا میں چینی تسلط کے خلاف دفاع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انھیں امریکہ اور برطانیہ دونوں اہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

اس خلاصے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تاہم نریندر مودی کی حکومت پر الزامات لگتے رہے ہیں اور اس کی وجہ انڈیا کی مسلم آبادی سے متعلق اس کا رویہ ہے۔‘

’اس سیریز میں ان الزامات کی حقیقت پر تحقیقات کی گئی ہے۔ مودی کی پس پردہ کہانی اور انڈیا کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت سے متعلق ان کی سیاست پر اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔‘
پہلی قسط میں اس چیز پر نظر دوڑائی گئی ہے کہ نریندر مودی نے سیاست میں کون سے ابتدائی قدم لیے جس میں دائیں بازو کی ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میں شمولیت سے لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں عروج شامل ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ کیسے گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے جہاں ’2002 کے فسادات پر ان کا ردعمل تنازع کا باعث بنا۔‘

جبکہ دوسری قسط میں 2019 کے بعد نریندر مودی کی حکومت کا ٹریک ریکارڈ دیکھا گیا ہے۔ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے لے کر شہریت کے نئے قانون تک، کئی متنازع پالیسیاں اختیار کی گئیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر پُرتشدد حملے کیے۔‘

قسط کے خلاصے کے مطابق ’مودی اور ان کی حکومت ایسے الزامات کی تردید کرتی ہے جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف متعصب رویہ رکھتے ہیں۔

تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ انڈین حکومت کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں اس تنظیم کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ہیں جس کے بعد اس نے دلی میں اپنے دفاتر بند کر دیے ہیں۔ ایمنسٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔‘

انڈیا میں اس ڈاکومنٹری پر شدید ردعمل آیا ہے جس کے بعد اس دستاویزی فلم کو یوٹیوب پر سے حذف کر دیا گیا ہے۔بی جے پی کے حامی ٹوئٹر اکاؤنٹس نے اس بی بی سی کو نوآبادیاتی دور کا ماؤتھ پیس قرار دیتے ہوئے اس دستاویزی فلم کو مسترد کیا ہے اور بی بی سی کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ نے مودی پر بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ’مسترد شدہ بیانیے‘ کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے بی بی سی کی ڈاکومنٹری کو ’متعصب‘ کہا ہے۔ ان کے مطابق اس میں ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ اور ’جانبداری‘ کھل کر نظر آتی ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم اس کے مقصد اور پس پردہ ایجنڈے پر سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اور ہم ایسی کوششوں کو ردعمل کے قابل نہیں سمجھتے۔‘