جن 3 مسلمانوں پر گائے کاٹنے کا الزام ہے!

0 11

نئی دہلی 4 جنوری ۔ندیم کا 7 سالہ بیٹا رئیس اپنے والد کی شوٹنگ مقابلے میں میڈل جیت کے گھر واپسی کا منتظر ہے۔ اُسے اپنی بہو اور 6 بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے رکشا چلانا پڑتا ہے۔ کالا کا چھوٹا بھائی بے چین ہے کیوں کہ اُس پر گھر کی ذمہ داری ہے لیکن اُسے اور اُس کے ارکان خاندان کو تفتیش کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بے یقینی کی کیفیت اور خوف ندیم، کالا اور رئیس کے گھرانوں کی خصوصیت ہے جنھیں بلند شہر کے تشدد کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 3 ڈسمبر کو یوپی کے ضلع بلند شہر میں اُس وقت فساد پھوٹ پڑا تھا جبکہ ایک گائے کا ڈھانچہ کھیتوں سے دستیاب ہوا تھا۔ اِس کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی۔ انسپکٹر سبودھ کمار اور ایک شہری جس کی شناخت بحیثیت سمیت کی گئی ہے، فوت ہوچکے ہیں۔ چار مسلمانوں کو ذبیحہ گاو¿ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 16 دن حراست میں رکھنے کے بعد بے قصور قرار دیا گیا۔ تاہم دیگر تین افراد کو گرفتار کیا جن کا نام اصل ایف آئی آر میں درج نہیں تھا۔ یہ تینوں افراد کون ہیں اور اُن کی گرفتاری کس وجہ سے ہوئی یہ جاننے کے لئے ایک روزنامہ کے نمائندے نے اُن کے ارکان خاندان اور تحقیقات کرنے والے پولیس عہدیداروں سے ملاقات کرکے تفصیلات حاصل کیں۔ ایس ایس پی بلند شہر پربھاکر چودھری نے جو تفتیش کے انچارج سینئر عہدیدار تھے، کہاکہ ملی جلی معلومات حاصل ہورہی ہیں، ہمیں ایک بندوق، ایک گاڑی جو مویشیوں کے لئے استعمال کی گئی تھی اور چند مخبروں سے اطلاعات حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم اُنھوں نے مزید شہادتوں کا انکشاف کرنے سے انکار کردیا اور کہاکہ ہنوز تفتیش جاری ہے۔ گرفتار رئیس کی بیوی نے کہاکہ گائے کو ہلاک جاٹوں نے کیا تھا اور مسلمانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کا اِس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا گرفتار شدہ شخص کالا 6 تا 7 سال پہلے ایک قصاب ہے لیکن اُس نے اپنی دوکان بند ہونے کے بعد بلند شہر میں گزشتہ پانچ ماہ سے سکونت اختیار کرلی ۔ ندیم کے والد نے کہاکہ اُنھیں ملک کی عدلیہ پر اعتماد ہے کہ اُن کا بیٹا بے قصور قرار دیا جائے گا۔