نئی دہلی:ہندوستان میں ’کووی شیلڈ‘ اور ’کوویکسین‘ کو منظوری دیئے جانے کے بعد اب ریاستوں تک ان دو کورونا ویکسین کی رسائی کا کام زور و شور سے چل رہا ہے۔ لیکن اس درمیان کئی لوگ ایسے ہیں جو کورونا ویکسین پر اعتبار نہیں کر رہے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس تذبذب میں ہے کہ کہیں یہ ویکسین حرام تو نہیں، اور دوسری طرف کئی سماجی و سیاسی ہستیوں نے جلدبازی میں ان ویکسین کو منظوری دیئے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ اس درمیان اتر پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سنگھ سوم نے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’جنھیں کورونا ویکسین پر بھروسہ نہیں، وہ پاکستان چلے جائیں۔‘‘

میرٹھ کے سردھانا سے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے یہ متنازعہ بیان چندوسی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے کچھ مسلم افراد ہیں جو ملک پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ ملک کے سائنسدانوں، پولس اور وزیر اعظم پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ ان کی عقیدت پاکستان میں ہے، تو وہ پاکستان چلے جائیں، لیکن سائنسدانوں پر شبہ نہ کریں۔‘‘

دراصل دنیا کے کئی ممالک میں مسلمانوں نے ویکسین میں خنزیر کی چربی (پورک جلیٹن) کے استعمال کیے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس اندیشہ کے پیش نظر ویکسین بنانے والی کئی کمپنیوں نے اس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹیکہ میں کسی ممنوعہ چیز کا استعمال نہیں کرتے۔ حالانکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ویکسین کو محفوظ بنانے کے لیے پورک جلیٹن کا استعمال کئی بار ضروری ہو جاتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کئی مسلم ممالک بشمول سعودی عرب میں کورونا ویکسین کا استعمال شروع ہو چکا ہے اور کچھ ممالک میں تو یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ اگر پورک جلیٹن کا استعمال ویکسین میں ہوتا ہے، تو بھی یہ حرام نہیں ہوگا، کیونکہ انسان کی زندگی سب سے زیادہ اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خواتین کی آواز کو عزت سے سننے کی ضرورت ہے، پرینکا گاندھی یو پی حکومت کے رویہ سے برہم
بہر حال، سنگیت سوم نے مسلمانوں کے خلاف تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ جنھیں کورونا ویکسین پر بھروسہ نہیں ہے، وہ پاکستان چلے جائیں۔ علاوہ ازیں سنگیت سوم نے سماجوادی پارٹی لیڈر اکھلیش یادو کے ذریعہ کورونا ویکسین نہ لگانے کے اعلان پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ کورونا ویکسین کو بی جے پی کا ٹیکہ بتانے والے اکھلیش یادو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی نے کہا کہ ’’ان کے دور اقتدار میں اتر پردیش کو مغل سلطنت بنا دیا گیا، لیکن اب وہ مغل حکومت کے آخری حکمراں ہی رہیں گے۔ ان کا نمبر اب نہیں آئے گا۔‘‘

BiP Urdu News Groups